افغانستان میں شدید سیلاب نے تباہی مچا دی

شمالی افغانستان میں شدید سیلاب سے کم از کم 70 افراد ہلاک  ہو گئے۔

افغانستان کے شمالی صوبے میں بارشوں نے تباہی مچا دی ۔ شدید سیلاب میں مٹی کا تودہ گرنے سے کئی افراد نیچے دب گئے جن کو نکالنے کے لیے فوج کی مدد لی جا رہی ہے۔

افغان حکام نے بتایا کہ موسلادھار بارش سے کم از کم 70 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

شمالی صوبہ پروان کی ترجمان واحدہ شاہکار نے بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ امدادی ٹیمیں تباہ شدہ مکانات کے نیچے دبے لوگوں کو تلاش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں کم از کم 66 افراد ہلاک اور 90 زخمی ہوئے ہیں۔

متاثرہ صوبے کی اسپتال کے سربراہ عبدالقاسم سنگین نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں متعدد بچے شامل ہیں اور کچھ زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

ترجمان شاہکار نے بتایا کہ شدید بارش کے بعد مکانات تباہ ہو گئے ہیں، کئی افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جن کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے لیکن ھمارے پاس وسائل کی کمی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگوں کو فوری امدد فراہم کرنے کے انتظامات کرے۔

افغان صدر اشرف غنی نے سیلاب سے متاثرہ افراد کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے پروان اور دیگر صوبوں کو فوری امداد پہنچانے کا حکم دیا ہے۔

افغان وزارت ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے ترجمان احمد تمیم عظیمی نے بتایا کہ سیلاب سے مشرقی اور شمالی صوبوں کی شاہراہیں بند ہوگئیں ہیں۔ مقامی انتظامیہ شاہراہوں کو ٹریفک کے لئے کھولنے کے لئے کوشش کر رہی ہے۔

عظیمی نے کہا کہ صوبہ پروان میں کم از کم 300 مکانات تباہ ہوگئے اور ایک ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب میں پھنسے افراد کی مدد کے لئے بھیجی گئی زمینی اور فضائی مدد صوبوں میں پہنچائی جا رہی ہے۔

عظیمی نے کہا کہ مشرقی میدان وردک میں سیلاب سے متعدد مکانات تباہ ہونے سے دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔

ننگرہار کے گورنر آفس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ بدھ کی صبح سیلاب سے گھر کی دیوار گرنے سے ایک خاندان کے دو افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔

یاد رہے ہر سال موسم گرما میں شمالی اور مشرقی افغانستان میں موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے سینکڑوں افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment