کرائسٹ چرچ کا ‘جلاد’ منطقی انجام کو پہنچ گیا

سانحہ کرائسٹ چرچ کے دہشت گرد کو نیوزی لینڈ کی سب سے سخت سزا عمرقید سنا دی گئی۔ جج نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ برینٹن تمہارا جرم اس قدر گھناؤنا ہے کہ اگر تمہیں قید میں موت بھی آجائے تو بھی تمہاری سزا پوری نہیں ہوگی۔

سانحہ کرائسٹ چرچ کا دہشت گرد اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ برینٹن ٹیرنٹ کو نیوزی لینڈ کی سب سے بڑی سزا عمرقید سنا دی گئی۔ نیوزی لینڈ کی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ کسی مجرم کو ایسی سزا سنائی گئی۔ جس میں اس کے پاس معافی حاصل کرنے کا کوئی نہیں۔

جج کیمرون مینڈر نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ برینٹن ٹیرنٹ کا عمل غیر انسانی تھا اور اس نے کسی پر رحم نہیں دکھایا۔ جج نے ملزم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ برینٹن تمہارا جرم اس قدر گھناؤنا ہے کہ اگر تم کو قید میں موت آ جائے تو بھی تمہاری سزا پوری نہیں ہوگی۔

اس سے پہلے سماعت کے دوران شہدا کے لواحقین اور زخمی افراد دہشت گرد پر برس پڑے۔ شہدا کےورثا کا کہنا تھا کہ ٹیرنٹ تمہارے والد کچرا اٹھاتے تھے اور تم اس معاشرے کی گندگی بن گئے۔

اپنے بوڑھے باپ کو کھودینے والے احد نبی نے دہشت گرد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹیرنٹ تم ایک گندے کیڑے ہو۔ تمہارے والد کچرا اٹھاتے تھے اور تم اس معاشرے کی گندگی بن گئے۔ تمہیں کچرے کے میدان میں دفن کرنا چاہئے۔ جج سے بھی درخواست کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ گندگی سے بھرا شخص اپنی زندگی میں کبھی جیل سے باہر نہ نکلنےپائے۔ دہشت گرد کو چیلنج کرتے ہوئے احد نبی نے کہا اس کے71 سالہ شہید والد کو اگر تم لڑائی کیلئے چیلنج کرتے تو وہ تمہارے دوٹکڑےکر دیتے۔

چوبیس سالہ سارہ قاسم کے والد النور مسجد میں شہید ہوئے تھے،سارہ قاسم نے دہشتگرد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرا نام سارہ قاسم ہے۔ میں ایک چمکتے دمکتے شخص کی بیٹی ہوں۔ عبدالفتح قاسم یہ نام یاد رکھیے گا یہ کہتے ہوئے سارہ رونے لگی، خود کو سنبھالا اور سارہ قاسم نےدہشتگرد ٹیرنٹ کو دیکھتے ہوئے کہا یہ آنسو تمہارے لیے نہیں۔

متاثرہ حمیمہ تویان نےدہشتگرد ٹیرنٹ سے کہا تمہارے اس گھناؤنے اقدام کے باعث نیوزی لینڈ کے ہزاروں افراد ہمارے ساتھ یکجہتی میں کھڑے ہوئے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment