چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے سال 2020 کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی

لاہور میں آٹھ ماہ کے دوران 368بچے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے مکین بنے، 172 بچوں کو والدین سڑکوں اور چوراہوں پر بے یارومددگار چھوڑ گئے۔ بیورو نے ایک درجن سے زائد نومولود بچوں کی پرورش کی ذمہ داری بھی نبھائی۔

بے آسرا بچوں کی دیکھ بھال ریاست کی ذمہ داری ہے۔پنجاب کی آبادی جہاں بڑھتی چلی جارہی ہے وہاں کچھ خاندان ایسے بھی ہیں جو اپنے ہی بچوں کو پالنے پر راضی نہیں۔ بعض بچوں کو گھر سے نکال دیا جاتا ہے تو کچھ ننھے پھول سڑکوں اور چوراہوں پر لاوارث پڑے ملتے ہیں۔ ایسے میں ان بے آسرا بچوں کا چائلڈ پروٹیکشن بیورو سہارا بنتا ہے۔

پنجاب میں جنوری 2020ءسے اگست 2020ءتک 368 بچے بیورو کے مکین بنے۔ 172بچے ایسے بھی ہیں جن کووالدین سڑکوں پر پھینک کر بری الذمہ ہو گئے۔ کئی ماہ وسال گزر گئے، ان معصوموں کی کسی نے خبر تک نہ لی۔

رواں سال کے پہلے 8 ماہ کے دوران چائلڈ پروٹیکشن بیورونے 403بچوں کو ریسکیو کیا۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں ڈیڑھ سو بچے ایسے ہیں جن کی فیملی کا کوئی اتا پتہ نہیں جن میں 26بچے 5 سال سے کم جبکہ 100بچوں کی عمریں 6 سے 10سال کے درمیان ہیں۔

چائلڈ پروٹیکشن بیورو سے بچہ گود لینے کے لیے پیچیدہ مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ رواں سال کے دوران صرف ایک بچے کو گود لیا گیا۔ کورونا وباء کے باعث بچوں کو ریسکیو کرنے کی کارروائیوں میں بھی کسی حد تک کمی آ گئی ۔

چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو ارہ احمد کا کہنا ہے کہ 10 محرم کے بعد ایک بار پھر سے کریک ڈاؤن شروع کریں گے۔ جن بچوں کو تحویل میں لیا جاتا ہے ان کو بہترماحول اور تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں۔ کچھ والدین اپنا فرض بھول گئے مگر چائلڈ پروٹیکشن بیورو اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھا رہا ہے۔ سینکڑوں بے آسرا بچے بیورو میں بہتر انداز میں پرورش پا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment