تو علم و ہنر سے خائف ہے، تو روشنیوں سے ڈرتا ہے

پاکستان میں کچھ نیا کرنے کی لگن ،محنت اور جستجو میں کمی نہیں ہے۔ پاکستانیوں میں تخلیقی صلاحیت بہت زیادہ ہے،مگر مسئلہ ان صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا ہے۔ جب بھی انسان کوئی نئی ایجاد کرتا ہے یا پرانی ایجاد میں تغیر و تبدل کرتا ہے تو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اس کو پذیرائی ملے۔

مگر افسوس کی بات ہے کہ حکومتی سطح پر نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو آگے بڑھانے کے لیے وسائل اس طرح فراہم نہیں کئے جاتے ہیں جن کی انہیں ضرورت ہوتی یے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سا تخلیقی کام گاوں،قصبے یا شہر کی کسی گلی میں خاموشی کے ساتھ پڑا رہتا ہے اور گل سڑ جاتا ہے۔ یہ تخلیقی کام پاکستان سمیت دنیا بھر کی آنکھوں سے اوجھل رہتا ہے۔

 انسانی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو انسانی سماج مسلسل ارتقاء کے مراحل میں رہا ہے اور مسلسل خود کو تبدیل کرتا آرہا ہے جس میں انسانی دماغ نے سب سے اہم کردار ادا کیا ہے اور سماج ترقی کی منزل طے کرتا جاتا ہے۔ جیسے جیسے سماج ترقی کرتا ہے ویسے ویسے وہ انسان کو نئے مواقع بھی فراہم کرتا ہے چاہے وہ روزگار کے ہوں یا ایجادات کے۔ اب یہ انسان کا کام ہے کی وہ بدلتے سماج میں اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور سماج کو تبدیل کرنے والے ایجنٹ کے طور پر کام میں لگ جائے۔

اگر انسانی سماجی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو انسان جنگل سے نکل کر جاگیردارنہ پھر سرمایہ دارانہ نظام میں داخل ہوا اور مسلسل خود کو اپنی صلاحیتوں اور سماج کے دیئے گئے موقع سے ترقی کرتا چلا گیا۔

جاگیرادانہ نظام نے جب ایجادات کے لیے نئے مواقع فراہم کئے تو پہیہ ایجاد ہوا جس نے سماجی کیفیت کو بدل کر رکھا دیا اور سرمایہ دارانہ نظام کی داغ بیل ڈالی۔ اس نظام نے سرمایہ کی ریل پیل نے ٹیکنالوجی کو ترقی کرنے کا موقع فراہم کیا اور کمپیوٹر ایجاد کیا پھر انٹرنیٹ نے زریعہ تبادلے کے نظام کو بدل دیا اور گلوبلائزیشن کو نئی جدیدت فراہم کی۔

اب اگر آپ کے پاس پلیٹ فارم ہے تو آپ کی ایجاد اور تخلیقی کام ایک بٹن کے ذریعے دنیا پھر تک پہنچ جاتا ہے۔

ایک ایسا ہی پلیٹ فارم انٹر نیٹ پر موجود ہے جس کا نام دیکھو پاکستان ہے۔اس پلیٹ فارم کا مقصد ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے باصلاحیت نوجوان کے تخلیقی کام کو دنیا بھر تک پہنچانا ہے جس میں ہمارا پلیٹ فارم اب تک کامیاب رہا ہے۔ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران دوہزار سے زائد باصلاحیت نوجوانوں کے تخلیقی کام اور ایک ہزار سے زائد آرٹیکل کی اشاعت کی جا چکی ہے جن کو خوب سراہا گیا ہے۔

دیکھو پاکستان نوجوان نسل کو سوشل پروفائل یا صفحات کو دنیا بھر تک پہنچانے کے لیے مدد فراہم کرتا ہے جبکہ آن لائن سرمایہ کاری اور آرٹ کے کام کو بھی اجاگر کررہا ہے۔

اس پلیٹ فارم کا آغاز جنوری 2020میں سید موسیٰ رضاء نے کیا جو کہ لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک سوفٹ ویئر انجینئر ہیں۔

دیکھو پاکستان کے ابتداء سے ہی اس کے اغراض و مقاصد واضح تھے،جس میں نوجوان نسل کی تخلیقی صلاحیتوں اور ان کی ایجادات جو دنیا بھر تک پہنچانا تھا جس میں اب تک یہ پلیٹ فارم کامیاب رہا ہے۔ اس پلیٹ فارم پر تمام تر سروسز بغیر معاوضہ سے فراہم کی جاتی ہیں جو پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد پلیٹ فارم ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment