اسلام آباد ہائی کورٹ:نواز شریف کو عدالت کے سامنے سرینڈر کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں عدالت کے سامنے سرینڈر کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ نواز شریف کی ضمانت غیرموثر ہو چکی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ نواز شریف سرینڈر کرینگے پھر ہی اپیلوں پر کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔ نواز شریف پیش نہیں ہوتے تو مفرور قرار دینے کی کارروائی شروع کرینگے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے پانامہ ریفرنسز میں اپیلوں پر سماعت کی۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیے کہ نواز شریف لندن میں علاج کی غرض سے موجود ہیں، انکی حالت ایسی نہیں کہ ابھی پاکستان واپس آ سکیں۔

جسٹس عامر فاروق کے استفسار پر خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف اب ضمانت پر نہیں ہیں۔ جب پنجاب حکومت نے انکی ضمانت مسترد کی تو وہ بیرون ملک تھے۔ پنجاب حکومت کے میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کے بیرون ملک علاج کی سفارش کی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ نواز شریف لندن میں اگر ہسپتال میں زیرعلاج ہوتے تو صورتحال مختلف ہوتی، لیکن وہ اس وقت زیرعلاج ہیں نہ ہی انکے علاج سے متعلق کوئی دستاویز پیش کی گئیں ہیں۔ اگر کوئی تفصیل پیش کرتے تو حکومت نمائندہ بھیج کر تحقیقات کر سکتی تھی۔

خواجہ حارث نے دلائل دیے کہ خواجہ حارث کے زیرعلاج نہ ہونے کا قطعی طور پر مطلب نہیں کہ وہ سفر کرنے کیلئے صحت مند ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ لاہور ہائی کورٹ کا اسلام آباد ہائیکورٹ کی کارروائی سے کوئی تعلق نہیں۔ نواز شریف نے پنجاب حکومت کے ضمانت مسترد کرنے کے فیصلے کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ نواز شریف کو ضمانت کے فیصلے پر مکمل طور پر عملدرآمد کرنا ہو گا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اگر نواز شریف پیش نہیں ہوتے تو یہ ایک جرم ہے اور اسکی الگ سے تین سال تک کی سزا ہو سکتی ہے۔عدالت نے نواز شریف کو عدالت کے سامنے سرینڈر کرنے کا حکم دیدیا، جس کی تاریخ تحریری حکم نامے میں جاری کی جائے گی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکورٹی وجوہات کے پیش نظر مریم نواز اور کپٹن ریٹائرڈ صفدر کی ایون فیلڈ اپیلوں کو نواز شریف کی اپیلوں سے الگ کرتے ہوئے سماعت 23 ستمبر تک ملتوی کر دی، عدالت نے العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کی اپیلوں میں وفاقی حکومت سے نواز شریف کی صحت سے متعلق 10 ستمبر تک جواب طلب کر لیا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment