جیلوں میں قید خواتین کی حالت زار کے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش

جیلوں میں قید خواتین کی حالت زار سے متعلق از خود نوٹس کیس وفاقی محتسب سیکرٹریٹ نے ساتویں عملدرآمد رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی، 

رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 829 خواتین جیلوں میں قید ہیں، سندھ 230، کے پی کے162 اور بلوچستان میں 23 خواتین قید ہیں۔ پنجاب میں قیدیوں تک محدود جیلوں کی تعداد43، سندھ میں 24، خیبرپختونخواہ میں38 جبکہ بلوچستان میں11 ہیں،۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پنجاب کی جیلوں سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد 14412، سندھ 4985، کے پی کے 2896 جبکہ بلوچستان میں 734 ہے۔ پنجاب کی جیلوں میں قید انڈر ٹرائل قیدیوں کی تعداد 30711، سندھ12337، کے پی کے 8995 جبکہ بلوچستان میں1٫342 ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں 633،سندھ میں 205,کے پی میں400اور بلوچستان میں 35 بچے جیلوں میں قید ہیں۔ پنجاب کی جیلوں میں موجودہ قیدیوں کی تعداد48٫283، سندھ17٫322، کے پی کے 11٫891 جبکہ بلوچستان میں 2٫107 قیدی موجود ہیں۔ 

وفاقی محتسب سیکرٹریٹ پنجاب کی جیلوں میں کرونا وائرس سے 5، سندھ میں42، کے پی کے میں34اور بلوچستان میں 57 متاثر ہوئے۔ پنجاب کی جیلوں میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد 553، سندھ61، کے پی کے 475 اور بلوچستان میں 65 مریض ہیں۔ تمام صوبوں میں کرونا وائرس کے دوران قیدیوں کو کسی سے نہیں ملنے دیا گیا۔

رپورٹ وزارت داخلہ نےاسلام آباد سیکٹر ایچ16 میں 72 کینال پر مشتمل 3.9 ارب روپے کی لاگت سے جیل بنانے کی منظوری دی ہے۔

وفاقی محتسب سیکرٹریٹ نے بتایا کہ جیلوں میں خواتین کو تعلیم و تربیت دینے کے حوالے سے بھی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ خواتین اور بچوں کیلئے الگ سے خانہ جات بنائے گئے ہیں۔ بلوچستان کے جیلوں میں قیدیوں کی مقررہ مقدار سے کم قیدیوں ہونے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ بلوچستان کی 11 جیلوں میں قیدی رکھنے کی گنجائش 2585 ہے۔اس وقت صوبے کی جیلوں میں 478قیدی کم قید ہیں۔پنجاب، سندھ اور کے پی میں جیلوں میں مقررہ تعداد سے زیادہ قیدی قید ہیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment