نواز شریف قوم کا اثاثہ ہیں انکی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، مسلم لیگ ن

مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کے قائد میاں محمد نواز شریف کی زندگی اور صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور ان سے علاج مکمل کرانے کے بعد ہی وطن واپس آنے کی درخواست کی۔

لاہور میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں نے میاں محمد نواز شریف کی صحت کے حوالے سے پریس کانفرنس کی جس میں احسن اقبال، خواجہ آصف، رانا ثنااللہ، شاہد خاقان عباسی اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ نواز شریف مسلم لیگ ن کے کروڑوں ورکرز اور اس ملک کا اثاثہ ہیں اور ان کی زندگی اور صحت پر نہ سیاست کی جا سکتی ہے نہ کوئی سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے لہٰذا ہم ان سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ اپنے علاج کو مکمل کروائیں اور جب ان کے ڈاکٹر اس بات کا فیصلہ کریں کہ وہ جانے کے لیے مکمل فٹ ہیں تو پھر وہ ایک لمحہ تاخیر کیے بغیر وطن واپس آ جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں توقع ہے پاکستان کی عدلیہ جس نے ان کی صحت کے پیش نظر انہیں علاج کے لیے اجازت دی تھی اور جب انہیں اجازت دی گئی اس کے بعد پوری دنیا کوروناوائرس کی لپیٹ میں آ گئی اور دنیا کے ہر ملک میں کئی ماہ ہسپتال بند رہے اور علاج کی سہولتیں معطل رہیں، اس لیے صحت اور علاج کی سہولتوں میں جو تاخیر ہوئی اس سے صرف نواز شریف متاثر نہیں ہوئے بلکہ ہر مریض کسی نہ کسی درجے میں متاثر ہوا ہے لہٰذا ہمیں توقع ہے کہ ان کی صحت کی صورتحال اور ڈاکٹرز کے جائزے کی روشنی میں عدلیہ بھی ان چیزوں کو ملحوظ رکھے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف وہ لیڈر ہے جس نے ایسی مثال قائم کی تھی جس کی پاکستان کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی، وہ اپنی بیمار اہلیہ کو بستر مرگ پر چھوڑ کر قانون کی عملداری یقینی بنانے کے لیے وطن واپس لوٹے تھے لہٰذا ان کے حوالے سے کسی قسم کی بحث کرنا یا چھیڑنا ان کی اس اعلیٰ مثال کی توہین اور انسانیت کی بھی تذلیل ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے اور لوگوں کی زندگی کا فیصلہ ٹاک شوز میں بیٹھ کر یا لچھے دار بیانات سے نہیں ہو سکتا، نواز شریف ہمارا اور قوم کا اثاثہ ہیں اور ان کی زندگی اور صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، اس سے پہلے یہ لوگ بیگم کلثوم نواز کی صحت کے حوالے سے بھی غیرذمے دارانہ بیانات دیتے تھے اور بعد میں اس پر شرمندہ بھی نہیں ہوئے۔

ایک سوال کے جواب میں احسن اقبال نے کہا کہ نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت علاج کے لیے ملی تھی تاکہ وہ اپنا علاج مکمل کرائیں لہٰذا جب ان کے ڈاکٹر فیصلہ کریں گے کہ وہ صحتیاب ہو گئے ہیں اور وہ واپس جا سکتے ہیں تب وہ واپس آئیں گے، باقی قانونی پہلوؤں پر ہماری لیگل ٹیم لائحہ عمل طے کرے گی۔

مسلم لیگ کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ آل پارٹیز کانفرنس کے حوالے سے رہبر کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں تمام پارٹیز نے مل کر 20ستمبر کو آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر اتفاق کیا ہے اور اس کے ایجنڈے پر مسلم لیگ ن کی تجاویز پر اجلاس اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران بلایا جائے گا اور وہاں پارٹی مشاورت کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کی صحت اور علاج کے حوالے سے موجودہ صورتحال پر رپورٹ عدالت میں جمع کرائی گئی ہیں اور تمام تر تفصیلات سے عدالت کو آگاہ کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت نے ان کو اجازت کسی کانفرنس یا سیاحتی دورے کے لیے نہیں دی تھی، خصوصی اجازت حکومت کی طرف سے تمام تسلی کرنے کے بعد دی گئی تھی کہ انہیں سنگین جان لیوا صوتحال کا سامنا ہے اور اس پر اجازت ملی تھی جس میں واضھ طور پر کہا گیا تھا کہ جیسے ہی ان کے معالجین سرٹیفکیٹ دیں گے کہ علاج مکمل ہو گیا ہے، تو وہ واپس آ جائیں گے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما نے حکمران جماعت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہم ان کو اتنا موقع دینا چاہتے ہیں کہ لوگ ان کی حقیقت اور اصلیت جانتے ہیں، یہ لوگوں کو خواب دکھا کر لائے تھے کہ 200ارب ڈالر یہاں سے آئے گا، 3ہزار ارب ڈالر کی کرپشن بند ہو کر یہاں سے آئے گا، ایک کروڑ نوکری اور 50لاکھ گھر آئے گا تو لوگوں کو ان کی اصلیت پتہ چل جائے اور اب لوگوں کو ان کی اصلیت پتہ لگ گئی ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں احسن اقبال نے کہا کہ جو جماعت ایک نکاتی ہو وہ مسلم لیگ ن کی طاقت کا اندازہ نہیں لگا سکتی، پاکستان مسلم لیگ ن کا ایک قائد ہے جس کا نام نواز شریف ہے اور ان کی قیادت میں گلگت سے گوادر تک مسلم لیگ(ن) ایک چٹان کی طرح متحد ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف درخواست پر نواز شریف کو 10 ستمبر کو اگلی سماعت سے قبل سرنڈر کرنے حکم دیا ہے بصورت دیگر کے ان کے خلاف قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment