جنگ ستمبر میں افواج پاکستان کا جوابی وار دشمن آج تک نہیں بھولا

6 ستمبر1965 کو بھارت نے تاریکی کافائدہ اٹھا کر پاکستان پر حملہ کیا۔ حملے کا پہلا نشانہ لاہور کو بنایا گیا۔ ٹینکوں کا جمِ غفیر لاہور کو فتح کرنے اور جم خانہ لاہور میں شراب و شباب کی محفل سجانے کا خواب لئے لاہور پر حملہ آور ہوا۔

مگر پاک فوج کے جری جوانوں نے میجر عزیز بھٹی کی قیادت مین دشمن کو ناکوں چنے چبوائے اور اس وقت کے اسکواڈرن لیڈر سجاد حیدر کی قیادت میں پاک فضائیہ نے جی ٹی روڈ کو بھارتی ٹینکوں کا قربستان بنا دیا۔

 پاک نیوی نے دوارکا کا قلعہ تباہ کر کے دشمن کو شدید زِک پہنچائی۔ ایم ایم عالم نے ایک منٹ سے کم وقت میں دشمن کے پانچ جہاز مار گرائے، اور پھر سجاد حیدر کی قیادت میں ہی پٹھان کوٹ میں بھارتی بیس تباہ کر دیا گیا۔

آج اسی جنگ کی یاد سادگی سے منائی جارہی ہے۔ جنگ ستمبر کے ہیروز کی قبروں اور یادگاروں پر پھولوں کی چادریں چڑھائی جائیں گی اور دعائیہ تقاریب منعقد ہوں گی۔ جی ایچ کیو میں بھی یاد گار شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھانے کے بعد یوم شہدا کی تقریب محدود پیمانے پر ہوگی۔

آج 6 ستمبر کی شام ایوان صدر میں ایوارڈز تقسیم کرنے کی تقریب ہوگی۔ کووڈ 19 کے باعث یہ تقریب دو حصوں میں تقسیم کر دی گئی ہے، پہلے روز 6 ستمبر کو ملٹری اور 7 ستمبر کو سول ایوارڈز تقسیم ہوں گے،۔ سادگی کے باعث اس بار دن کے آغاز پر توپوں کی سلامی نہیں ہوگی۔

آج کے دن ایوان صدر میں ایوارڈز کی تقسیم کی تقریب دو حصوں میں ہوگی، پہلے مرحلہ میں آج ملٹری ایوارڈز کی تقسیم کی تقریب ہوگی، سول ایوارڈز کی تقسیم کے لئے تقریب 7 ستمبر کو ہوگی۔ ایوان صدر میں ہی مہمانوں کی محدود تعداد کا دعوت دی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment