دوحہ میں انٹرا افغان امن مذاکرات کا آغاز

دوحہ میں افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں طویل تاخیر کے بعد بالآخر امن مذاکرات شروع ہونے والے ہیں۔ افغان حکومت کی مزاکراتی ٹیم آج دوحہ پہنچے گی۔

اس سے قبل ہفتے کے روز ، طالبان کے وفد کے ارکان پاکستان کے دورہ مکمل کرنے کے بعد دوحہ واپس پہنچے تھے۔ طالبان پولیٹیکل آفس کے ترجمان سہیل شاہین نے اس بات کی تصدیق بھی تصدیق کی۔

یہ مذاکرات دراصل دس مارچ کو قطری شہر دوحہ میں امریکہ اور افغان طالبان کے مابین ہونے والے معاہدے کے بعد شروع ہونا تھے تاہم طالبان قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کی وجہ سے یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔ آئندہ ہفتے کے شروع میں افغان فوج کمانڈوز کے بدلے تقریبا 400 طالبان قیدیوں کی آخری کھیپ کی رہائی کا راستہ مذاکرات سے کھل جائے گا۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک دونوں فریقین میں مزاکراتی ایجنڈا واضع نہیں ہو سکا ہے۔

ایک افغان وزیر نے کہا ہے کہ یہ مذاکرات آئس بریکنگ سیشن ہوں گے جس میں شاید کوئی طویل ایجنڈا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی فریق سب سے پہلے مذاکرات کے فریم ورکپر بات کرنا چاہیں گے اور مزید کہ یہ عمل کس طرح آگے بڑھے گا۔

مسٹر مستور نے کہا تاہم ان مذاکرات سے افغانستان میں مکمل جنگ بندی کے بارے میں توقع کی جارہی ہے اور دونوں فریقین کی آپس کی اعتماد سازی بڑھانے پر بھی بات چیت ہو گی۔

افغانستان میں نیٹو کے سینئر نمائندے اسٹیفانو پونٹیکاوڈاو نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ اس عمل کو کامیاب بنانے کے لئے سمجھوتہ کریں۔ انہوں نے اس عمل کے لئے عوامی حمایت حاصل کرنے کے لئے تشدد میں کمی پر زور دیا۔

انہوں نے افغانستان میں انسانی اور شہری حقوق سے متعلق پیشرفت کا بھی ذکر کیا اور اس کا احترام کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کوئی بھی نہیں چاہتا کہ ان مذاکرات کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے۔

افغان ماہر رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ طالبان فوری طور پر جنگ بندی پر راضی نہیں ہوسکتے ہیں، ہاں شاید وہ مرحلہ وار اس بات پر راضی ہو سکتے ہیں۔

سینیٹر شیری رحمان نے افغانستان میں جامع اور جمہوری امن پر اتفاق کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

 

 

 

 

 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment