انعام غنی نئے آئی جی پنجاب تعینات

وفاقی حکومت نے شعیب دستگیر کی جگہ انعام غنی کو نیا انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب تعینات کردیا ۔

وفاقی حکومت نے پولیس سروس آف پاکستان گریڈ 22 کے شعیب دستگیر کی جگہ ایڈیشنل آئی جی پنجاب پولیس سروس گریڈ 21 کے انعام غنی کو نیا انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب تعینات کردیا ہے جبکہ شعیب دستگیر کو سیکرٹری نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن اور سیکرٹری نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن اے ڈی خواجہ کو ممبر انچارج وفاقی محتسب کراچی تعینات کر دیا ہے۔

ایک اور نوٹیفکیشن کے مطابق گریڈ 21 کے افسر خشیع الرحمان سے ایڈیشنل سیکرٹری انچارج قانون و انصاف کا عہدہ واپس لے کر سینئیر کنسلٹنٹ راجہ نعیم اکبر کو وفاقی سیکرٹری قانون و انصاف کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے، ایک اور نوٹیفکیشن کے مطابق تقرری کے منتظر سیکرٹیریٹ گروپ گریڈ 20 کے خیال زاد گل کو او ایس ڈی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بنا دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایڈیشنل آئی جی فنانس پنجاب طارق مسعود یاسین نے انعام غنی کے ماتحت کام کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ طارق مسعود یاسین کی جانب سے پنجاب حکومت کو ارسال کردہ مراسلے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انعام غنی مجھ سے جونیئر ہیں ان کی ماتحتی میں کام کرنے سے قاصر ہوں۔ وقار، عزت اور اصولوں پر ڈاکٹر شعیب دستگیر کے ساتھ کام کیا، فوری تبادلہ کیا جائے اور حتمی فیصلے ہونے تک رخصت دی جائے۔

 

مزید پڑھیںحکومت نے آئی جی پنجاب کو عہدے سے ہٹا دیا

 

ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت بننے کے بعد انعام غنی چھٹے انسپکٹر جنرل پولیس ہیں۔ 

اس سے قبل شعیب دستگیر کو کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) لاہور عمر شیخ سے اختلافات کے باعث عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ تبدیل کیے گئے آئی جی پنجاب شعیب دستگیرکو سیکرٹری نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن لگا دیا گیا جس کا وفاقی حکومت نے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔

گزشتہ روز شعیب دستگیر اور نئے تعینات ہونے والے سی سی پی او عمر شیخ کے درمیان اختلافات کی خبریں سامنے آئی تھیں جس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے دونوں پولیس افسران کے درمیان اختلافات پر آئی جی پنجاب سے ملاقات بھی کی تھی اور ان کے تحفظات سنے تھے، تاہم وزیراعظم نے آئی جی پنجاب کے رویے پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ وزیراعظم نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مشاورت کے بعد آئی جی پنجاب کو عہدے سے ہٹایا گیا جس کے بعد وفاقی حکومت نے نئے آئی جی پنجاب کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔ پی ٹی آئی دور حکومت میں پانچواں آئی جی تبدیل ہوا ہے، 

نگران حکومت نے کیپٹن (ر) عارف نواز کو تبدیل کر کے کلیم امام کو آئی جی پنجاب تعنیات کیا تھا، کلیم امام کے بعد محمد طاہر کو آئی جی پنجاب تعینات کیا گیا لیکن وہ بھی زیادہ دیر نہ رہ سکے۔ اس کے بعد ان کی جگہ امجد جاوید سلیمی کو لایا گیا اور پھر قرعہ عارف نواز خان کے نام کا نکلا لیکن اسی پر بس نہ ہوئی اور انھیں بھی ہٹا کر شعیب دستگیر کو نیا آئی جی پنجاب لگایا گیا۔

اب 9 ماہ بعد ایک بار پھر شعیب دستگیر کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور انعام غنی کو نیا انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب لگادیا گیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تمام تقرر و تبادلوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیئے ہیں۔

 

 

 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment