کے الیکٹرک کے سربراہ کی نوکری خطرے میں پڑ گئی

اسلام آباد: حکومت نے کراچی الیکٹرک کے ون ونڈو آپریشن کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، حالیہ بارشوں کے بعد بلاتعطل بجلی کی فراہمی اور رکاوٹوں کو دور کرنے میں اپنی مبینہ نااہلی پر اعلی قیادت کو ہٹانے کا کہا ہے۔

اعلی ذرائع نے بتایا کہ کے الیکٹرک بورڈ آف ڈائریکٹرز کے حکومتی ممبروں نے کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مونس علوی اور ہیڈ آف ڈسٹریبیوشن کے تبادلے کے لئے انتہائی پیشہ ور افراد منتخب کر لیے جو مشکل حالات میں موثر خدمات کو یقینی بناسکتے ہیں۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ موجودہ ٹیم نے بروقت کارروائی نہیں کی۔

ایک اور عہدیدار نے کہا کہ حالیی بحران اور ہلاکتوں کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دینی چاہیے۔ بجلی کے ڈویژن اور وزارت توانائی کا خیال ہے کہ کے الیکٹرک کے معاملے میں ہر شخص کو اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔

وزیر توانائی نے کے الیکٹرک کو ہدایت کی ہے کہ وہ کراچی میں بجلی کے سب اسٹیشنوں سے پانی کی نکاسی کے لئے پمپ اور دیگر مشینری کا انتظام کریں ، اس کے علاوہ ایسے تمام اسٹیشنوں کی فہرستیں بھی تیار کریں جو بارش کے پانی سے متاثر ہوئے ہیں۔

یاد رہے کراچی میں حالیہ بارشوں میںں سیلابی صورتحال میں کراچی کے زیادہ تر علاقوں میں بجلی کی فراہمی کئی دن تک معطل رہی تھی اس دوران کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) مونس علوی کا کہنا تھا کہ سب اسٹیشنزمیں نکاسی آب نہ ہونے کے باعث بجلی بند کی گئی ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ عوام اور عملے کی جانوں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ جب تک پاور اسٹیشنز میں پانی جمع ہے بجلی بحال نہیں کی جا سکتی۔

 

 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment