وفاقی کابینہ کا اجلاس، وزرا پنجاب میں بیڈ گورننس پر پھٹ پڑے

اسلام آباد: وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں آئی جی پنجاب کا تبادلہ اور گڈ گورننس پر بحث ہوئی جس میں تبدیل کیے گئے آئی جی پنجاب شعیب دستگیر معاملے پر وزیراعظم کے سامنے بول پڑے۔ اجلاس میں آئی جی کی تبدیلی پر وزراء نے اپنے اپنے خدشات ظاہر کیے۔

جس پر وزیراعظم عمران خان نے کابینہ اجلاس میں شعیب دستگیر کی ن لیگ کیلیے ہمدردی کا بھی ذکر کیا۔

اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ نیب لاہور کے باہر مریم نواز کی پیشی پر ہونے والے واقعے کے بارے میں آئی جی کو پہلے سے علم تھا، شعیب دستگیر نے معمولی معاملہ کو انا کا مسئلہ بنا لیا۔ سی سی پی او لاہور کی معافی کے باوجود شعیب دستگیر کو اناء کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے تھا۔

فواد چودھری اور دیگر وزرا نے کہا کہ یہ تحریک انصاف کی حکومت میں چھٹا آئی جی ہوگا، پولیس سربراہوں کی مسلسل تبدیلیوں سے فورس میں بے چینی پیدا ہو گی۔

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ اجلاس میں ایک مرتبہ پھر وزیر اعلی پنجاب پر تنقید کی گئی اور اس کے برعکس وزیر اعظم عمران خان عثمان بزدار پر ہونے والی تنقید خاموشی سے سنتے رہے۔

غلام سرور خان نے وزیر اعلیٰ پنجاب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میں آج بطور وزیر آپ سب کو بتانا چاہتا ہوں کہ پنجاب میں کوئی گورننس نہیں ہے۔ پنجاب میں گورننس نہ ہونے سے پی ٹی آئی کو نقصان ہو گا۔

ہمیں پنجاب میں گورننس بہتر کرنا ہوگی۔ پنجاب میں گورننس بہتر کرنے کےلئے پنجاب کے وفاقی وزراء کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیر اعظم نے پنجاب میں گورننس کے معاملے پر خصوصی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا۔ یاد رہے گذشتہ اجلاس میں بھی وفاقی وزراء نے عثمان بزدار پر تنقید کی تھی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment