آصف زرداری کے خلاف 3 کیسز میں درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے پارک لین، منی لانڈرنگ اور ہریشن کمپنی ریفرنس خارج کرنے کی سابق صدر آصف علی زرداری کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

سابق صدر آصف علی زرداری کی پارک لین ضمنی ریفرنس، ہریش اینڈ کمپنی ریفرنس اور میگا منی لانڈرنگ ریفرنس خارج کرنے کی درخواستوں پر سماعت احتساب عدالت اسلام آباد کے جج اعظم خان نے کی۔ دوران سماعت آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے۔ سابق صدر آصف علی زرداری کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

دوران سماعت فاروق ایچ نائیک نے ریفرنسز خارج کرنے کی درخواستوں پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نیب کے پاس ضمنی ریفرنس دائر کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اس کیس میں کوئی انکوائری، یا تحقیقات نہیں کی گئیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری کو نیب کی جانب سے طلب بھی نہیں کیا گیا۔ آصف علی زرداری کا نام اٹھا کر اس ریفرنس میں ڈال دیا۔ فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ فوجداری قانون میں ادھورا چالان جمع کروا کر بعد میں مکمل چالان جمع کرایا جا سکتا ہے تاہم نیب آرڈیننس میں عبوری اور پھر ضمنی چالان جمع نہیں کرایا جا سکتا۔ احتساب عدالت اس ریفرنس کو خارج کرے، یہ ریفرنس سپریم کورٹ کے احکامات کیخلاف ہے۔ سپریم کورٹ نے ریفرنس دائر کرنے کیلئے دو ماہ کا وقت دیا تھا۔ ضمنی ریفرنس غیر قانونی اور نیب کی بدنیتی پر مبنی ہے۔ 

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے کہا کہ قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ ضمنی ریفرنس دائر نہیں ہو سکتا۔ نیب آرڈیننس کے سیکشن 16 کے تحت ایک کیس کسی دوسری جگہ منتقل بھی ہو سکتا ہے۔ سردار مظفر نے پانامہ کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑا واضح ہے۔ سپریم کورٹ کا حکم ہے کہ نیب ضمنی ریفرنس دائر کر سکتا ہے۔ عدالت آصف علی زرداری کی درخواستیں مسترد کرے۔ عدالت نے دونوں جانب کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو جمعے کے روز سنایا جائے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment