سانحہ تیز گام کی رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع

داخلہ اور ریلوے کی وزارتوں نے سانحہ تیزگام سے متعلق تحقیقاتی رپورٹس اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرا دیں۔ 15 افراد کو سانحے کا ذمے دار قرار دیا گیا ہے۔ عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اخترکیانی نے سانحہ تیز گام کی شفاف تحقیقات کےلیے دائر درخواست کی سماعت کی۔ وزارت داخلہ اور ریلوے نے سانحہ تیزگام سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ پیش کی، جس میں 5 ہیڈ کانسٹیبلز کو سانحے کا براہ راست ذمہ دار قراردیا گیا ہے۔ ڈپٹی ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ کراچی، ڈویژنل کمرشل آفیسر کراچی،ایس ایچ او حیدر آباد اور خانپور غفلت کے مرتکب پائے گئے ہیں۔۔ریزویشن سپروائزر قمر شاہ پر بھی بے ضابطگی کی ذمہ داری عائد کی گئی۔رپورٹ کے مطابق تمام ذمہ داران کیخلاف ضابطے کی کارروائی شروع کی جا چکی ہے۔

جسٹس محسن اخترکیانی نے ریمارکس دیئے کہ وزارت داخلہ اور ریلوے الگ الگ انکوائری کررہے ہیں۔ایک کیس کی دوسری ایف آئی آر کیسے ہوسکتی ہے۔ان حالات میں کیا کمیشن کی تشکیل کا حکم دیا جا سکتا ہے؟درخواست گزار نے استدعا کہ وسیع تر مفاد میں آزادانہ تحقیقات کا حکم دیا جائے۔8 میتوں کی شناخت ابھی باقی ہیں۔ان کے لواحقین کو بھی معاوضے کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔

درخواست گزار وکیل نے دلائل دیے کہ وزیر ریلوے شیخ رشید کو اپنے کنڈکٹ کر استعفی دینا چاہیے، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اگر کنڈکٹ کو دیکھیں تو سارے پاکستان کے وزراء کو استعفے دینے پڑینگے۔ ہمارا اخلاقیات کا معیار اتنا ہائی نہیں، قانون کی بات کریں۔ موٹروے سانحے کا ذکرکرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ہر کوئی تفتیشی بنا ہوا ہے، احتیاط برتنی چاہیے جو چیزیں جس طرح ہائی لائٹ ہوتی ہیں اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment