ھماری جدوجہد عمران کو لانے والوں کے خلاف ہے، نواز شریف

سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے اے پی سی سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔

سابق وزیراعظم نوازشریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ دور ہوتے ہوئے بھی اچھی طرح جانتا ہوں کہ وطن عزیز کن حالات سے گزر رہا ہے۔ عوام شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ پاکستان کو درپیش تمام مسائل کی بنیادی وجہ صرف ایک ہے کہ جمہوری نظام سے مسلسل محروم رکھا گیا ہے، جمہوری نظام میں عوام کی روح ہوتی ہے۔

اپوزیشن کی اے پی سی میں اپنے ویڈیو خطاب میں انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیراعظم عمران خان کا احتساب کب ہو گا۔ عمران خان کے پاس زمان پارک گھر کے لیے پیسے کہاں سے آئے، کیا کوئی پوچھے گا؟ چینی کی قیمت بڑھانے میں عمران خان کی ذات ملوث ہے، ایک کروڑ نوکریوں کا جھانسا دینے والوں کو جواب دینا ہو گا۔ سی پیک کے ساتھ بی آر ٹی جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ 

سابق وزیراعظم نے تسلیم کیا کہ ڈکٹیٹر کے بنائے ادارے نیب کو برقرار رکھنا ہماری غلطی تھی۔ نیب اندھے حکومتی انتقام کا آلہ کار بن چکا ہے ۔ چیئرمین نیب جاوید اقبال ڈھٹائی سے اپنے عہدے پر براجمان اور اپنے ایجنڈے پر عمل کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ بنی گالہ میں عمران خان کے ذاتی گھر کی فائل کیا یوں ہی بند رہے گی۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے خارجہ پالیسی پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے کٹھ پُتلی حکومت دیکھ کر کشمیر کواپنے اندر ضم کرلیا ہم احتجاج بھی نہ کرسکے، حتی کہ اپنے دوستوں کی حمایت بھی حاصل نہ سکے۔ پاکستان کو دیگر ممالک کیساتھ ملکر او آئی سی کو مضبوط کرنا چاہیے، خارجہ پالیسی کو بچوں کا کھیل بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔

نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر پاکستان میں ووٹ کو عزت نا ملی تو ملک مفلوج ہی رہے گا۔ آئین پر عمل کرنے والے ابھی تک کٹہروں اور جیلوں میں ہیں لیکن کیا کبھی کسی ڈکٹیٹر کو سزا ملی۔ ایک ڈکٹیٹر پر مقدمہ چلا خصوصی عدالت بنی،کارروائی ہوئی، سزا سنائی گئی لیکن کیا ہوا؟ووٹ سے بنا وزیراعظم کوئی قتل، کوئی پھانسی اور کوئی غدار قرار دیا گیا، منتخب وزیراعظم کی سزا ختم ہونے کو آہی نہیں رہی، یہ سزا عوام کو مل رہی۔

نوازشریف نے کہا کہ انتخابات ہائی جیک کرکے اقتدار چند افراد کو منتقل کر دینا بڑی بدیانتی اور آئین شکنی ہے۔ انتخابی نتائج تبدیل نہ کیے جاتے تو بیساکھیوں پر کھڑی حکومت کبھی عمل میں نہیں آسکتی تھی۔

نوازشریف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی سوچ سےمتفق ہوں۔ ہمیں رسمی اور روایتی طریقوں سے ہٹ کر اس کانفرنس کو بامقصد بنانا ہو گا۔

نواز شریف نے کہا کہ ایک مرتبہ سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے کہا تھا یہاں ریاست میں ریاست قائم ہے، یہاں یا تو مارشل لاء ہوتا ہے یا منتخب حکومت سے کہیں زیادہ طاقتورایک متوازی حکومت قائم ہو جاتی ہے۔ عوام کی حمایت سے کوئی جمہوری حکومت بن جائے تو کس طرح اسکے ہاتھ پاؤں باندھ دیے جاتے ہیں۔ کسی بھی منتخب وزیراعظم کو اوسطاً دوسال سے زائد شاید ہی موقع ملاہو۔

سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ جولوگ بھی دھاندلی کےذمہ دار ہیں انہیں حساب دینا ہو گا۔اپوزیشن سیاسی انتقام کا نشانہ بن رہی ہیں۔ جو نیب سے بچ جائے وہ ایف آئی اے کے ہتھےچڑھ جاتا ہے۔ ہماری جدوجہد عمران خان کو لانے والوں کے خلاف ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment