اسلام آباد ہائیکورٹ:مراد سعید کے خلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیر مواصلات مراد سعید کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے نجی ٹرانسپورٹ کمپنی کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیے کہ عدالت نے نیشنل ہائی ویز سیفٹی آرڈیننس 2000 پر مکمل عمل درآمد کا حکم دیا تھا۔ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ میرا فیصلہ ہے اس لیے مناسب ہے کہ یہ درخواست کوئی اور بینچ سنے۔ وکیل نے کہا کہ آپ کا فیصلہ ہے، توہین عدالت کی درخواست بھی آپ نے ہی سننی ہے۔ ایکسل لوڈ قانون پر عمل درآمد نہ ہونے سے قومی شاہراہوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا عدالت کا فیصلہ برقرار ہے؟ کہیں چیلنج یا معطل تو نہیں ہوا؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ عدالتی فیصلہ موجود ہے جس پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔ توہین عدالت درخواست میں سیکرٹری مواصلات، چیئرمین این ایچ اے اور آئی جی موٹر ویز بھی فریق بنایا گیا ہے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے جنوری 2020 میں 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا تھا جس کے مطابق وزن کی مقررہ حد کے قانون پر عمل درآمد روکنے سے شاہراہوں اور قومی خزانے کو نقصان پہنچا، اب سے اگر کوئی پبلک آفس ہولڈر اس قانون پر عمل درآمد روکے تو نقصان اس کی جیب سے وصول کیا جائے،نیشنل ہائی ویز اور موٹرویز پر وزن کرنے والے سٹیشنز کو فعال بنانے کا حکم دیا گیا تھا، ایکسل لوڈٖ کے قانون پر عمل درآمد کے لیے ضرورت کے مطابق وزن کرنے والے مزید اسٹیشنز قائم کرنے کا بھی حکم دیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment