سپریم کورٹ میں سرکاری زمین لیز پر دینے سے متعلق از خود نوٹس پر سماعت

سپریم کورٹ میں سرکاری زمین پر پیٹرول پمپس لیز پر دینے سے متعلق از خود نوٹس پر سماعت کی۔ عدالت نے کمشنر فیصل آباد کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سرکاری اراضی پر پیٹرول پمپس لیز پر دینے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر کمشنر فیصل آباد کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور چینیوٹ میں تجاوزات سے متعلق رپورٹ اور ماسٹر پلان بھی بھی پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

کمشنر فیصل آباد کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالتی حکم عدولی پر کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر دونوں جیل جائیں گے۔ اگر ایسی فضول رپورٹ دی تو جیل بھیج دیں گے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ کہاں سے تجاوزات ختم کرائے رپورٹ میں کچھ نہیں بتایا گیا۔گرین بیلٹ، کمیونٹی پلاٹ اور سڑک کے ساتھ تجاوزات کا نہیں بتایا گیا۔ اتنا بڑا چارٹ عدالت میں پیش کیا گیا مگر معلومات زیرو ہیں۔

عدالت نے خانیوال میں سرکاری اراضی پر پیٹرول پمپ چلانے کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے فیصل آباد مائی دی جھگی میں قائم پیٹرول پمپ قانونی طور پر قائم ہونے کی شرط پر دوبارہ نیلامی کرانے کا حکم دے دیا۔ درخواست گزار کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی آڑ میں پنجاب حکومت مرضی کا شکار کر رہی ہے.کیس کی سماعت تین ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی گئی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment