فوج کو سیاست معاملات میں نہ گھسیٹا جائے، عسکری قیادت

اسلام آباد: حکومتی وزراء اور اپوزیشن رہنماؤں نے انکشاف کیا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور انٹر سروسز انٹلیجنس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے آل پارٹیز کانفرنس سے چند روز قبل حزب اختلاف کی اہم شخصیات کے ساتھ ایک ملاقات کی تھی جس میں عسکری قیادت نے انھیں سیاسی امور میں فوج کو گھسیٹنے سے گریز کرنے کی صلاح دی تھی۔

16 ستمبر کے اجلاس میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف ، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ، اے این پی کے امیر حیدر ہوتی ، جے یو آئی (ف) کے اسد سمیت اپوزیشن کے تقریبا 15 شخصیات نے شرکت کی تھی۔ اس ملاقات میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف اور احسن اقبال ، پیپلز پارٹی کے سینیٹر شیری رحمان اور کچھ حکومتی وزرا بھی شامل ہیں۔

وزیر ریلوے شیخ رشید نے میڈیا کے ساتھ گفتگو میں اجلاس اور اس کے شرکا کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس میں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت میں آنے والی تبدیلیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا ۔ تاہم حزب اختلاف نے اس موقع پر دوسرے معاملات خصوصاً فوج کی سیاست میں مبینہ مداخلت اور احتساب کے بہانے اپنے قائدین پر ظلم و ستم کے الزامات کے بارے میں اپنے خدشات کو ظاہر کیے۔

مشاہدہ کرنے والوں نے اس ملاقات کے وقت اور اسے منظر عام پر لانے کو اپوزیشن کی اتوار کے روز ہونے والی ملٹی پارٹیز کانفرنس سے منسلک کیا جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے فوج پر یہ کہتے ہوئے تنقید کی تھی کہ ‘یہ ریاست کے اندر ریاست ہے’۔

شیخ رشید نے کہا کہ آرمی چیف نے اجلاس کے شرکا کو واضح طور پر کہا کہ فوج کسی بھی طرح سے سیاسی عمل سے منسلک نہیں ہے اور انتخابی اصلاحات اور احتساب سے متعلق معاملات میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

تاہم ، آرمی چیف نے کہا کہ فوج صرف منتخب سویلین حکومت کے کہنے پر مدد کے لیے آتی ہے اور اس سے قطع نظر کہ اس عہدے پر کون ہے۔

جنرل باجوہ نے واضح طور پر یہ پیغام دیا کہ کسی کو بھی ملک میں انتشار پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

شیخ رشید نے کہا کہ عسکری قیادت نے واضح کیا کہ ہمیں کسی مسئلے میں نہ لائیں، آپ جانیں اور آپ کا کام جانے، نیب کا چیئرمین، الیکشن کمشنر آپ نے لگایا ہے، اصلاحات آپ نے کرنی ہیں، معاملات آپ نے طے کرنے ہیں، ہمیں کوئی سول حکومت بلائے گی تو ہم لبیک کہیں گے، ہمیں بھاشا ڈیم، نیلم جہلم، فاٹا، ٹڈی دل، سیلاب اور نالوں کی صفائی میں حکومت بلائے گی تو فوج اس کا فیصلہ مانے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ اگر کل آپ کی حکومت ہوئی تو آپ بھی ہمیں جو کہیں گے وہ ہمیں کرنا ہو گا کیونکہ اس یونیفارم میں ہم سول گورنمنٹ کی جانب سے دیے گئے آرڈر پر لبیک کہنے کے پابند ہیں، یہ آرمی چیف نے سب کے سامنے کہا تو لوگوں نے کہا کہ یہ بات سن کر بڑی حیرانی ہوئی، انہوں نے کہا کہ حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے، ہم برسر اقتدار حکومت کے حکم پر لبیک کہیں گے’۔

 

انہوں نے کہا کہ ‘عسکری قیادت کا کہنا تھا کہ کل اگر آپ کی حکومت ہوگی تو فوج آپ کا بھی فیصلہ مانے گی لیکن فوج کو خواہ مخواہ مسائل میں مت گھسیٹیں اور یہ یاد رکھیں کہ جمہوریت ناصرف پاکستان کی ضرورت بلکہ اشد ضرورت ہے، اگر جمہوریت کو نقصان پہنچا تو یہ بات بہت دور جاتی ہے’۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ دوستانہ ماحول میں باتیں ہوئیں، کوئی تناؤ نہیں تھا، کوئی تلخ بات نہیں ہوئی اور ہلکے پھلکے انداز میں ملاقات ہوئی۔

 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment