رشوت لینے والے ملازم کو کسی صورت بحال نہیں کیا جا سکتا، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر پولیس لاہور محمد شفیع کی سپریٹنڈنٹ کے عہدے پر تنزلی سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا رشوت لینے والے ملازم کو کیسے بحال کر سکتے ہیں۔ محکمے نے ریگولر انکوائری کی اور جرم ثابت ہوا۔ وکیل ملازم محمد شفیع نے عدالت کو بتایا کہ میں نے رشوت نہیں لی ادھار کا لین دین تھا اور وہ بھی آوٹ آف آفس تھا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا، آپ کہتے ہیں تو معاملہ انکوائری کیلئے دوبارہ محکمے کو بھیج دیں؟ آپ خود قبول کر رہے ہیں کہ پیسے لینے دینے کا معاملہ تھا، ملازمت سے برطرف کس حیثیت سے لینے دینے والا کام کر رہا تھا۔

محمد شفیع نے عدالت کو بتایا کہ میں ہر قسم کا حلف لینے کیلئے تیار ہوں میں نے رشوت نہیں لی، میرا اس شخص سے ادھار لینے دینے کا معاملہ تھا جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ جو کہانی سنا رہے ہیں وہ عدالت میں جمع دستاویزات میں کہاں لکھا ہے۔ جسٹس اعجاز الحسن نے کہا بہتر ہے جو تنزلی ہوئی ہے اسی پر متفق ہو جائیں۔

سپریم کورٹ نے محمد شفیع کو محکمہ پولیس کی جانب سے نچلے درجے پر تنزلی کا فیصلہ برقرار رکھا۔ پنجاب سروس ٹربیونل نے اپیل مسترد کر دی تھی۔ کرمنل کورٹ نے سیٹلمنٹ کی بنیاد پر بری کر دیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment