آج سندھ بھر میں آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن احتجاج کرے گی

سندھ بھر میں آج آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن اتحادی تنظیموں سے ملکر بھرپور احتجاج کریں گے۔

پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کے سربراہ کاشف مرزا نے کہا کہ وزیرتعلیم سندھ سعید غنی کی طرف سے تعلیمی ادارے بند کرنا ہے اور ھم اس تعلیم دشمنی کو مسترد کرتے ہیں۔ سندھ بھر میں آج بھرپور احتجاج شروع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم دشمن وزیرتعلیم سندھ سعید غنی کی پالیسی NCOCاور دیگر صوبوں سے متضاد ہے اور ان کو برطرف کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں کرونا کیسز حکومتی غفلت وناکامی ہے۔ سرکاری سکولز میں زیرتعلیم 2.5 کروڑطلباہمارے بچے ہیں۔ SOPs عملدرآمد کیلئے50ارب روپے چاہیے، فوری ادا کیے جائیں۔

اختر آرایئں نے کہا کہ صوبہ بھر کو بند کرنے کی بجائے‏متاثرہ سکول اور گھروں کو بند کر کے سکریننگ کی جائے۔ تعلیم و تدریس کا سلسلہ بند کرنے کی بجائے میئکرولاک ڈاؤن کا آپشن استعمال کیا جائے۔ ملک بھر 4لاکھ سے زائدسکولز ہیں،دو تین سکولز میں کیسز آنے پر سب کو بند نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ جوسکولز SOPs پر عمل نہ کریں انکے خلاف سخت کاروائی کی جائے، ھم حکومت سے تعاون کر یں گے۔ سنگل شفٹ سے کرونا پھیلنے کا شدیدخطرہ ہے اور ڈبل شفٹ کےتحت ریگولرکلاسز کی جائیں۔تعلیمی اداروں، مالکان، انتظامیہ، ٹیچرز، والدین،طلبا، سول سوسائٹی اور حکومت نےمل کرSOPs کو یقینی اور بچوں کو محفوظ بنانا ہے۔

کاشف مرزا نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، صحت اور تحفظ اولین ترجیح ہے جس میں کوتاہی برداشت نہیں کریں گے۔ بچوں کے کورس نامکمل ہونے سے شدید تعلیمی نقصان ہوگا۔ سمارٹ نصاب کی بجائے9-9ماہ کے 2تعلیمی سیشن کے زریعے طلبا کے تعلیمی نقصان کا ازالہ ممکن ہے۔

دونوں رہنماؤں نے کہا کہ “ون نیشن ون کریکولم‘‘ سہانا خواب ہے اوراس کا عملیت سے کوئی تعلق نہیں۔ وزیر تعلیم سندھ اپنے لاڈلے قائم مقام سیکریٹری تعلیم احمد بخش ناریجو کی نا اہلی پر پردہ ڈالنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment