سانحہ بلدیہ ٹاون فیکٹری، 2 افراد کو سزائے موت سنا دی گئی

کراچی میں انسداد دہشت گردی عدالت نے 8 سال بعد سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ مزدوروں کو زندہ جلا دینے کے الزام میں گرفتار 2 ملزمان زبیر عرف چریا اور عبدالرحمان عرف بھولا کو سزائے موت سنا دی گئی ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اپنے فیصلے میں سابق وزیر صنعت عبدالرؤف صدیقی سمیت 4 ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ آگ حادثاتی طور پر نہیں لگی تھی بلکہ بھتہ نہ ملنے کی وجہ سے جان بوجھ کر لگائی گئی تھی۔

یاد رہے گیارہ ستمبر 2012ءکی شام حب ریور روڈ پر واقع علی انٹرپرائزئز نامی گارمنٹس فیکڑی میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی، جس کے نتیجے میں وہاں کام کرنے والے 259 مزدور جل کر جاں بحق ہوگئے تھے۔ ابتدا میں آتشزدگی کو حادثہ قرار دینے اور اس کی ذمہ داری فیکٹری مالکان پر ڈالنے کی کوشش کی گئی تاہم مالکان کی گرفتاری اور ان کے بیانات کی روشنی میں یہ انکشاف ہوا کہ یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی منظم سازش تھی۔

گیارہ سمتبر کی شام فیکڑی کے تمام خارجی راستے بند کر کے کیمکل کے ذریعے آگ لگائی گئی۔ فیکڑی کے اندر ایک منزل کو لکڑی کے فرش کے ذریعے دو فلوز میں تقسیم کیا گیا تھا، کھڑکیوں اور روشن دانوں پر لوہے کی گرل نصب تھی اور ہنگامی حالت میں فیکٹری سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نا ہونے کی وجہ سے ملازمین دم گھٹنے اور جل کر جاں بحق ہوئے تھے۔

فیکڑی مالکان سے ایم کیو ایم کی جانب سے 20 کروڑ روپے بھتےکا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ملزم زبیر چریا فیکٹری میں ہی ملازم تھا، جس نے ایم کیو ایم بلدیہ سیکٹر کے انچارج عبدالرحمان بھولا کے ذریعے تنظیمی کمیٹی کے انچارج حماد صدیقی کو اطلاع فراہم کی تھی کہ فیکٹری کو جرمنی سے ایک بڑا ٹھیکا ملا ہے، جس کے بعد سے پہلے بھتے کے مطالبے شروع ہوئے، جو مالکان کے انکار پر دھمکیوں میں تبدیل ہو گئے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment