صحافی کی بلا وجہ گرفتاری، چیف جسٹس نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا نوٹس

اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر سے نجی ٹی وی چینل کے صحافی احتشام کیانی کی گرفتاری پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے نوٹس لے لیا۔

ذرائع کے مطابق صحافی احتشام کیانی آج مریم نواز کی پیشی کے موقع پر کوریج کیلئے ہائیکورٹ جا رہے تھے۔ عدالت کے باہر تعینات پولیس نے احتشام کیانی کو گرفتار کر کے تھانہ رمنا منتقل کردیا۔

صحافی کی گرفتاری کے بعد چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پولیس کے اعلیٰ حکام کو فوری طلب کر لیا۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اس موقع پر کہا کہ یہ حالات ہیں تو آزادی اظہار پر مکمل پابندی ہی لگا دیں ۔ صحافی کی گرفتاری پر اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص کو شناخت کے لئے حراست میں لیا گیا تھا۔

صحافی کے اغواء کے بعد ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے نمائندے چیف جسٹس کی عدالت میں پیش ہوئے اور چیف جسٹس کو بتایا کہ پولیس نے گرفتار کر کے کہا صحافی کو چیف جسٹس کے کہنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا کوئی حکم ہماری طرف سے نہیں دیا گیا۔

سنیئر صحافی حامد میر نے اسلام آباد پولیس کے ایس پی سرفراز کو بتایا کہ میں جب آرہا تھا مجھے بھی روکا گیا، مجھے پرائیوٹ آدمی نے روکا تھا جو شکل سے چرسی لگ رہا تھا، میں نے جب پوچھا کہ آپ کون ہیں تو ایک آفیسر آئے انہوں نے مجھے کہا کہ آپ جائیں۔ اسلام آباد پولیس کے ایس پی سرفراز نے کہا کہ نجی ٹی وی چینل نے جو خبر چلائی ہے اس میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ صحافی سے کوئی اسلحہ برآمد ہوا ہے۔

 ایس پی نے متعلقہ حکام کو احتشام کیانی کے رہائی کے احکامات جاری کردئیے۔ دوسری طرف اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی صحافی احتشام کیانی کو فوری رہا کرنے کا حکم ‏ دے دیا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment