نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی۔ ایڈیشن اٹارنی جنرل نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے وقت مانگ لیا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی پانامہ ریفرنسز میں سزا کیخلاف درخواستوں پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔

مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔ نیب کی جانب سے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل جہانزیب بھروانہ، ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل سردار مظفر جبکہ وفاقی کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ احتساب عدالت کے اسی فیصلے کیخلاف نواز شریف کی اپیل بھی زیر سماعت ہے۔ نواز شریف کی حاضری کیلئے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔ پہلے اس معاملے کو دیکھ لیں پھر ایک ساتھ اپیلوں پر سماعت کر یں گے۔ عدالت نے مرکزی اپیلوں پر سماعت 9 دسمبر تک ملتوی کردی۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کے حوالے سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے عدالت کو بتایا کہ ڈاک کے ذریعے بھجوائے گئے وارنٹس وصول ہو چکے ہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کاؤنٹی کورٹ سے وارنٹ کی تعمیل کا کیا بنا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کاؤنٹی کورٹ کے ذریعے تعمیل کی رپورٹ جمع کرانے کیلئے مہلت دی جائے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا انکی طرف سے تصدی کا کوئی خط موصول ہوا ہے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے نفی میں جواب دیا اور کہا کہ ابھی انکی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کتنا وقت لگ سکتا ہے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل بولے کم از کم پندرہ دن کا وقت لگے گا۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ اگر ایک مقررہ وقت پتہ چل جاتا کہ دس دن لگیں گے یا پندرہ دن، تو ہم اس حساب سے تاریخ مقرر کر دیتے ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ آپ کیس غیر معینہ مدت تک ملتوی کریں، جیسے ہی جواب آتا ہے عدالت کو آگاہ کر دونگا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اس طرح طویل عرصہ کیلئے سماعت ملتوی نہیں کر سکتے۔ ہم ایک ہفتے کیلئے سماعت ملتوی کر دیتے ہیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کردی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment