بیٹوں کے ظلم کا شکار باپ انصاف لینے عدالت پہنچ گیا

حقیقی بیٹوں کے گھر سے نکالنے اور چائے کے ڈھابے کو آگ لگانے کے بعد بے بس والد ہائیکورٹ پہنچ گیا۔ 

سائل محمد فرید نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کو دادرسی کی درخواست دیتے ہوئے بتایا کہ میں ایف ٹین کا رہائشی ہوں حقیقی بیٹوں نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے۔ میں ایک غریب آدمی ہوں اور بے بس ہوں اور اپنے سگے بیٹوں کے ظلم کا شکار ہوں۔ 

سائل محمد فرید نے عدالت کو درخواست میں موقف اختیار کیا کہ میرے حقیقی بیٹے نے میرا کاروبار بھی تباہ کر دیا، میرا چائے کا ڈھابا تھا جسے آگ لگا دی ۔ جس کے بعد میں نے تھانہ شالیمار اسلام آباد میں بیٹوں کے خلاف شکایت درج کروائی۔ شکایت درج ہونے پر کوئی داد رسی نہیں ہوئی اور نہ ہی میری درخواست پر عمل درآمد کیا گیا۔

سائل محمد فرید نے عدالت کو مزید بتایا کہ پولیس کے اعلیٰ حکام کے علم میں یہ بات لائی تو درخواست سنی گئی۔ میرا کیس سیشن کورٹ میں گیا تو عدالت نے دونوں حقیقی بیٹوں کو بری کر دیا۔ میں نے ایڈیشنل سیشن جج محمد علی وڑائچ کی عدالت میں اپیل دائر کی تو انہوں نے یہ کہہ کر مسترد کر دی کہ یہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی جائے۔

سائل محمد فرید نے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ سائل کے ساتھ انصاف کیا جائے اور جو نقصان ہوا ہے اسے پورا کیا جائے۔ اگر انصاف نہ کیا گیا تو سائل کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ خدشہ ہے کہ حقیقی بیٹے کسی بھی وقت مجھے قتل کر سکتے ہیں ہے۔ سائل کی درخواست پر ہمدردانہ غور کرتے ہوئے فوجداری اپیل میں تبدیل کیا جائے۔ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ملزمان کو سخت ترین سزا دی جائے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment