سندھ تہرے قتل کیس: عدالت کا ملزمان کو دو ہفتوں میں گرفتار کرنے کا حکم

سندھ کے علاقے میہڑ میں تہرے قتل کا معاملے پر سپریم کورٹ نے مفرور ملزمان کو دو ہفتوں میں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ میں تہرے قتل کے ملزمان کی عدم گرفتاری سے متعلق ام رباب چانڈیو کی دائر درخواست پر سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پولیس نے جو رپورٹ جمع کی ہے وہ ایک رام کہانی ہے۔

ڈی آئی جی حیدرآباد نے عدالت کو بتایا کہ مفرورملزمان کو گرفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور ہماری آن گراونڈ کوششیں جاری ہیں، گرفتاری کے لئے مزید وقت دیا جائے۔

چیف جسٹس نے کہا آپ دو مفرور ملزمان کو اگلے ہفتے تک گرفتار کرکے لائیں اس سے زائد کا وقت نہیں دینگے۔ آپ کو اور آپ کے لوگوں کو سب معلوم ہے۔ آپ ھمارے سامنے کس پولیسنگ کی بات کررہے ہیں۔آپ ریاست کی مشینری ہیں۔ پولیس والے کاغذوں سے باہر نکلیں دو ملزمان مفرور ہیں ان کو گرفتار کریں۔ اگر آپ نے ملزمان گرفتار نہیں کئے تو آپ نوکری سے فارغ ہو جائینگے۔

عدالت نے کہا کہ ڈی آئی جی صاحب آپ اس عہدے کے لئے اہل نہیں۔ ملزمان گرفتار نہ کئے تو سب فارغ ہو جائینگے۔ آپ کی کوششیں کھڈے کھودنے کے برابر ہیں اور آپ کو جو کام دیا گیا ہے وہ کرکے آئیں۔

سپریم کورٹ نے پولیس کی جمع کرائی گئی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مفرور ملزمان کو دو ہفتوں میں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ سماعت دو ہفتوں کے لئے ملتوی کر دی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment