سی پی او لاہور کا سیاستدانوں پر جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کا الزام

سی پی او لاہور عمر شیخ نے سیاستدانوں پر ڈکیٹ اور جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کا الزام لگا دیا۔

سی سی پی او عمر شیخ نے کہا کہ شہباز بھنڈر محسن رانجھا کے ڈیرے سے برآمد ہوا۔ جس پر محسن رانجھا نے کہا کہ آپ غلط بات کررہے ہیں، آپ خود ایڈیشنل آئی جی کی تعیناتی کی سفارش کے لیے میرے پاس آئے تھے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اجلاس میں کمیٹی کے ممبر محسن رانجھا اور سی سی پی او لاہور کے درمیان آج پھر تلخ کلامی ہوئی ہے۔

سی سی پی او لاہور نے کمیٹی کو بتایا واقع میں ملوث مجرمان کی فوری نشاندہی کے بعد ایک کی گرفتاری عمل میں لائی جا چکی ہے جبکہ ایک مجرم فرار ہے جس کی گرفتاری کیلئے پنجاب پولیس کی 25ٹیمیں کاروائی کر رہی ہیں۔

عمر شیخ نے اس موقع پر کمیٹی کے شرکاءکو بتایا کہ ایسے عادی مجرم بعض سیاسی راہنماﺅں کی مداخلت کے سبب چھوٹ جاتے ہیں۔ جس پر کمیٹی اراکین نے سی سی پی او کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

رکن کمیٹی محسن نواز رانجھا کے ایک سوال پر سی سی پی او نے موقف اپنایا کہ اس طرح کے مجرموں کو بچانے والے میں آپ جیسے لوگ شامل ہیں۔

جس پر محسن رانجھا نے کہا کہ میں نے وزیراعلیٰ سے آپ کی سفارش کی اور آج آپ مجھ پر الزام لگاتے ہیں۔جس پر عمر شیخ نے آج پھر معافی طلب کر لی۔

چیئرمین کمیٹی ریاض فتیانہ نے کہا کہ لاہور سیالکوٹ موٹروے پر ہونے والے واقعہ اور اس پر ریمارکس نے پوری قوم کو شرمندہ کردیا ہے۔

آئی جی موٹروے کلیم امام نے کہا کہ موٹروے پر جو ہوا انتہائی افسوس ناک ہے۔ انیس لنک موٹروے روڈز ایسی ہیں جن کا کنٹرول تو ہمیں دے دیا گیا ہے مگر پولیس بھرتی کی اجازت نہیں دی گئی۔ انکا کہنا تھا کہ وزارت خزانہ نے تاحال بھرتی کا معاملہ حل نہیں کیا۔

Leave a Comment