پروین رحمان قتل کیس:سپریم کورٹ کا ٹرائل کورٹ کو ایک ماہ میں فیصلہ سنانے کا حکم

سپریم کورٹ نے سماجی کارکن پروین رحمان قتل کیس میں ٹرائل کورٹ کو ایک ماہ میں فیصلہ سنانے کا حکم دے دیا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماجی کارکن پروین رحمان قتل کیس پر سماعت کی۔ دوران سماعت ممبر جے آئی ٹی نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس میں پانچ ملزمان تھے، ایک ملزم قاری بلال کو اسی شام قتل کردیا گیا تھا۔ اس کیس سے قاری بلال کا کوئی تعلق نہیں تھا۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ اگر قاری بلال کا اس قتل سے تعلق نہیں تھا تو  اسلحہ کیسے میچ کر گیا؟

ممبر جے آئی ٹی نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس کے  ملزمان کو تین سال بعد مشکل سے گرفتار کیا گیا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ملزمان گرفتار ہیں تو کیس کا ٹرائل کہاں تک پہنچا؟عدالتی استفسار پر سربراہ جے آئی ٹی پیر محمد نے بتایا کہ  شہادتیں اور بیانات مکمل ہو چکےہیں۔ سپریم کورٹ کی وجہ سے کیس حتمی دلائل کے لئے رکا ہوا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے اس کیس میں کوئی اسٹے آرڈر جاری نہیں کیا۔

عدالت عظمی  نے سماجی کارکن پروین رحمان قتل کیس میں  ٹرائل کورٹ کو ایک ماہ میں فیصلہ سنانے کا حکم دیدیا ہے

واضح رہے کہ اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کی ڈائریکٹر پروین رحمان کو 13 مارچ 2013 کو کراچی میں بنارس پل پر عبداللہ کالج کے قریب فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment