بھارت میں 11 ہندوؤں کے قتل پر پاکستانی ہندو برادری سراپا احتجاج

بھارت میں گیارہ ہندوں کا مبینہ قتل پر پاکستان کی ہندوبرادری سراپا احتجاج ہے۔ ہندو برادری کی جانب سے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے دھرنا دیا جا رہا ہے جس میں ملک بھر سے مظاہرین شامل ہو رہے ہیں۔دھرنے میں سندھ بھر سے ہندو خواتین ، بچے اور مرد بھی شامل ہیں۔

اسلام آباد دھرنے میں ہندو برادری نے بھارت میں 11 ہندوؤں کے قتل کی ایف آئی آر، قتل کی شفاف تحقیقات، کونسلررسائی اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کا مطالبہ کیا ہے۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی ہندوؤں کے قتل میں مودی سرکارملوث ہے۔ 

شرکاء کا کہنا ہے کہ اگر ھمارے مطالبات نہ مانے گئے تو بھارتی ہائی کمشین میں بھی داخل ہوسکتے ہیں۔مظاہرین کا مزید کہنا تھا کہ مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رہے گا۔

 رہنما ہندو کونسل بھگوان داس کا کہنا ہے کہ بھارتی ظلم دنیا کے سامنے لائیں گے، پاکستان میں ہندوؤں سمیت تمام اقلیتیں محفوظ ہیں۔

خیال رہے کہ 9 اگست 2020 کو بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع جودھ پور میں 11 پاکستانی ہندو پراسرار طور پر ہلاک کر دیے گئے تھے۔

متاثرہ خاندان کے ایک فرد کی بیٹی شری متی مکھی نے پریس کانفرنس میں الزام لگایا تھا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ نے ان کے خاندان کو پاکستان مخالف ایجنٹ بننے کا کہا لیکن انکار پر انہیں قتل کردیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment