سپریم کورٹ:سانحۂ APS پر جوڈیشل کمیشن رپورٹ پبلک کرنے کا حکم

‏سپریم کورٹ نے سانحہ آرمی پبلک اسکول کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ پبلک کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں سانحہ آرمی پبلک اسکول سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ اٹارنی جنرل نے انکوائری کمیشن رپورٹ پرجواب جمع کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ واقعہ میں ذمہ دارافراد کیخلاف ہرممکن کاروائی کی جارہی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے اٹارنی جنرل اوپر سے کاروائی کا آغازکریں۔ ذمہداران کیخلاف سخت کاروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچ سکیں۔

آرمی پبلک سکول میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین نے استدعا کی کہ واقعہ دہشت گردی نہیں بلکہ ٹارگٹ کلنگ تھا۔ہمارے بچے واپس نہیں آئینگے، چاہتے ہیں کسی اورکے بچوں کے ساتھ ایسا واقعہ نہ ہو۔ عدالت نے جوڈیشل کمیشن رپورٹ اور اٹارنی جنرل کے کمنٹس پبلک کرنے کا حکم دیتے ہوئے امان اللہ کنرانی کو عدالتی معاون مقرر کر دیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ آئندہ ایسا واقعہ رونما نہ ہو، جو سیکیورٹی کے ذمے دار تھے ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے، اتنا بڑا سیکیورٹی لیپس کیسے ہوا؟

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیکیورٹی اداروں کے پاس اطلاع تو ہونی چاہیے تھی، جب عوام محفوظ نہیں تو بڑی سیکیورٹی کیوں رکھی جائے۔عدالت نے سماعت ایک ماہ تک ملتوی کردی۔

چیف جسٹس نے والدین کی درخوست پر 16 دسمبر کو پشاور میں دعائیہ تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کرلی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment