سوزی اور ببلو کو بیرون ملک منتقل کرنے کی تجویز

چڑیا گھر کے کاون ہاتھی کے بعد سوزی اور ببلو ریچھوں کو بھی بیرون ملک منتقل کرنے کی تجویز سامنے آ گئی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے چڑیا گھر کے جانوروں کی ہلاکت پر توہین عدالت کیس پر سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جس سوسائٹی میں زندگی کی قدر نہ ہو وہاں ایسے ہی کرائم ہوں گے۔ جس طرح کے کرائم آج کل ہم خواتین اور بچوں کے حوالے سے سن رہے ہیں یہ مائنڈ سیٹ بن چکا ہے۔ جو کہ حضور اکرم کے فرمان اور احادیث سے ہی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کاون ہاتھی اور ریچھوں کا کیا بنا؟ جس پر چئیرمین وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ نے عدالت کو بتایا کہ کاون کو کمبوڈیا بھیجنے کی تیاری مکمل ہو رہی ہے۔ ریچھ رکھنے کی ذمہ داری کسی صوبے نے نہیں لی۔ شرمندہ ہو کر کہہ رہا ہوں کہ ہمیں ریچھ بھی بیرون ملک بھیجنے پڑیں گے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ شیر بھی چڑیا گھر میں بہت تشویشناک حالت میں تھے۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان اور احادیث ہی مائنڈ سیٹ تبدیل کر سکتے ہیں۔ آج تک کسی نے بتایا ہے کہ اسلام نے جانوروں کو کیا حقوق دئیے ہیں۔ کرپشن اس حد تک آگئی ہے کہ جانوروں کے کھانے کو بھی چوری کیا جا رہا ہے۔ اس سے زیادہ کیا ہو گا کوئی بھی اپنے آپ کو بدلنے کے لئے تیار نہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بچوں کو سکولوں میں جانوروں کے حقوق کے حوالے سے پڑھایا جانا چاہیے۔ آپ کے پاس ایکسپرٹس ہیں جو بھی جانوروں کے لیے بہتر ہو آپ نے وہ کرنا ہے۔ کل پہلی دفعہ ہاتھی کو بہتر حالت میں دیکھا گیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر یہ سب کچھ پاکستان کے بہتر امیج کی نشاندہی کر رہا ہے، تاہم عدالت نے بیرون ملک سے آئے ایکسپرٹ ڈاکٹر عامر خلیل کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے کل 28 ستمبر دن ایک بجے طلب کر لیا۔

 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment