آرمینیہ اور آذربائیجان کے مابین جنگ چھڑ گئی

آرمینیہ اور آذربائیجان کے مابین اتوار کے روز علیحدگی پسند علاقے ناگورنو اور قرہباخ کے آس پاس جنگ شروع ہو گئی۔

آرمینیائی وزارت دفاع نے بتایا کہ آذربائیجان کے دو ہیلی کاپٹروں کو گرا دیا گیا۔
وزارت اطلاعات کے ترجمان شوشان سٹیپیان نے بھی کہا کہ آرمینیائی فوج نے آذربائیجان کے تین ٹینکوں کو نشانہ بنایا۔ مگر انہوں نے ہلاکتوں سے متعلق کچھ نہیں بتایا۔
آذربائیجان کی وزارت دفاع نے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ اس کے ہیلی کاپٹروں اور ٹینکوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ لیکن صدر الہام علیئیف نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ ارمینیائی بمباری کے نتیجے میں آذربائیجان کی افواج اور شہری آبادی میں نقصانات ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ سنہ 1994 میں ختم ہونے والی جنگ کے بعد ناگورنو قرہباغ کا انتظام آرمینیا کے ہاتھوں میں ہے۔
ترجمان اسٹیپیان نے کہا کہ اتوار کے روز لڑائی کا آغاز آزربائیجان کے حملے سے ہوا، لیکن دوسری طرف آذربائیجان نے کہا کہ آرمینیا نے پہلے حملہ کرنے کا آغاز کیا اور اس حملے کے جواب آذربائیجان نے جوابی کارروائی کی۔
آذربائیجان کے قریبی اتحادی ملک ترکی کی حکمران جماعت کے ترجمان عمر سیلک نے ٹویٹ کیا  کہ ہم آذربائیجان پر آرمینیا کے حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ آرمینیا نے ایک بار قانون کو نظر انداز کرتے ہوئے اشتعال انگیزی کا ارتکاب کیا ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ ترکی آذربائیجان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا اور کہا کہ ارمینیا آگ سے کھیل رہا ہے اور علاقائی امن کو خطرہ میں ڈال رہا ہے۔
آرمینیا کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے ترکی کے صدارتی ترجمان ابراہیم کلن نے بھی ٹویٹر پر کہا کہ آرمینیا نے آذربائیجان کی شہری آبادی پر حملہ کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے، عالمی برادری فوری طور پر اس خطرناک اشتعال انگیزی کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان سنہ 1980 کی دہائی کے آخر میں لڑائی شروع ہوئی تھی جو کہ سنہ 1991 میں مکمل جنگ کی شکل اختیار کر گئی تھی۔
سنہ 1994 میں ہونے والی جنگ بندی سے پہلے اس لڑائی میں ایک اندازے کے مطابق 30,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔یہ خطہ آذربائیجان کی حدود کے اندر ہے تاہم اسے نسلی آرمینیوں کی جانب سے کنٹرول کیا جاتا ہے

 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment