آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تنازعہ میں شدت، ترکی اور روس کی مداخلت کا خطرہ

آذربائیجان اور آرمینیا کی افواج کے درمیان متنازع علاقے نگورنو کاراباخ میں شدید جنگ کے بعد دونوں ممالک میں مارشل لاء نافذ کردیا گیا ہے۔فائرنگ ، گولہ باری اور بمباری میں 23افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ تنازع میں شدت سے روس اور ترکی کے اس جنگ میں شامل ہونے کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

آذربائیجان کی وزارت دفاع نے متازع علاقے میں 6 دیہاتوں کو آرمینی قبضے سے چھڑانے کا اعلان بھی کیا ہے۔

آذربائیجان کے مطابق ان کی افواج نے کاراباخ میں اس اسٹریٹجک پہاڑی کا کنٹرول بھی حاصل کرلیا ہے جو یروان سے آرمینیائی باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کا راستہ ہے ۔  اس مسلم علاقے پر مسیحی علیحدگی  پسندوں کا قبضہ اس علاقائی تنازعے کا باعث بنا۔

آرمینیا کے باغیوں کا کہنا ہے کہ ان کے 16باغی اس جنگ میں ہلاک اور 100سے زائد زخمی ہوچکے ہیں ۔ آذربائیجان کے مطابق باغیوں کی شیلنگ سے ایک ہی خاندان کے 5افراد جاں بحق ہوئے۔

اقوام متحدہ ، یورپی یونین، فرانس، جرمنی اور روس سمیت دیگر ملکوں نے متنازع علاقے میں فوری جنگ بندی پر زور دیا ہے جب کہ ترک صدر رجب طیب ایردان نے کہا ہے کہ آذربائیجان پر ایک اور حملے سے آرمینیا نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ علاقائی امن و امان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، ترکی ہمیشہ کی طرح آج بھی اپنے آذری بھائیوں کے ساتھ ہے۔

ترک صدر نے ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ ترک عوام آذربائیجانی بھائیوں کیساتھ ہمیشہ کی طرح کھڑے ہیں اور آذربائیجان کی ہر طرح سے مدد کی جائیگی ۔ انہوں نے آرمینیا کو خطے کے امن واستحکام کیلئے بڑا خطرہ قرار دیا۔ پاکستان نے بھی نگورنو کاراباخ میں سلامتی کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دفترخارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے پاکستان آذربائیجانی قوم کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے جب کہ پاکستان سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت آذربائیجان کے مؤقف کی حمایت کرتا ہے۔ ایران نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی پیشکش کردی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے کہا کہ ایران آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ بندی کی خاطر مذاکرات شروع کروانے کی ہر ممکن کوشش کرے گا ۔ روسی صدر پیوٹن نے آرمینیا کے وزیراعظم کو فون کرکے کہا ہے کہ محاذ آرائی کو مزید بڑھنے سے روکنے کی ضرورت ہے ۔  انہوں نے جنگ بندی پر زور دیا۔

آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے کہا ہے کہ وہ خطے کا کنٹرول حاصل کرلیں گے ۔  انہوں نے ملک میں مارشل لاء اور دارالحکومت باکو میں کرفیو لگانے کا بھی اعلان کیا ہے۔آرمینیا کے وزیراعظم آرٹک بادگاساریان کا کہنا ہے کہ ان کی افواج تنازع کے خاتمے کیلئے آخری دم تک لڑے گی۔

کاراباخ کے باغی رہنما آرایک کا کہنا ہے کہ ترکی آذربائیجان میں لڑنے کیلئے اپنی مسلح افواج بھیج رہا ہے۔  آذربائیجان کی وزارت دفاع کے مطابق آرمینیا کی جنگی سرگرمیوں کے رد عمل میں اپنے شہريوں کی حفاظت کے  ٹینکوں ، میزائلوں، ڈرونز اور لڑاکا طیاروں کو حرکت میں لایا  گیا ہے۔

آرمینیا کی وزارت دفاع نے آذربائیجان کے 2 ہیلی کاپٹر اور 3 ڈرونز مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا ہے جب کہ آذربائیجان کی افواج نے بڑی تعداد میں آرمینی فوجی تنصیبات، اینٹی ائیر کرافٹ میزائل سسٹم اور فوجی گاڑیوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment