اسلام آباد ہائیکورٹ:گاڑی ضبطگی کیس میں فلسطینی سفیر کے خلاف کارروائی سے روکنے کے حکم کی توسیع

فلسطینی سفیر کا گاڑی ضبطگی کے کسٹم کلیکٹر کے اقدام کے خلاف کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے فلسطینی سفیر کے خلاف کارروائی سے روکنے کے حکم کی توسیع کردی 

عدالت کا کسٹم کلیکٹر کو وزارت خارجہ کی ایڈوائس کے مطابق کیس دیکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ آپ جیسے ان کو ایڈوائس کریں گے یہ اسی طرح اس کو آگے چلائیں گے۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کسٹم حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ کیس کسی ینگ افیسر نے بنایا؟ یوتھ میں انرجی زیادہ ہوتی ہے لیکن بہت سی چیزیں دیکھنا پڑتی ہیں۔ عدالتیں خارجہ امور میں اس لیے نہیں پڑتیں کیونکہ اس کے بہت اثرات ہوتے ہیں۔ کسٹم حکام کے لیے بہتر طریقہ یہ تھا کہ وہ پہلے دفتر خارجہ سے رجوع کرتے۔ جس طرح دفتر خارجہ کہتا پھر آپ اسی طرح اس کو آگے لیکر چلتے۔ 

عدالت نے مزید کہا کہ یہ عام کیس نہیں عدالت جس طرح خود کو خارجہ امور میں پڑنے سے روکتی ہے اس طرح آپ کو دیکھنا چاہیے تھا۔ یہ پرائیویٹ معاملہ نہیں ہے اس لیے آپ کو کچھ معاملات میں خود کو روکنا چاہیے۔

عدالت نے کسٹم حکام سے استفسار کیا کہ آپ کے ڈیپارٹمنٹ کو پتہ ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کیا ہے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ مفاد عامہ میں یہ درست نہیں کہ آپ ان معاملات کو اس طرح ڈیل کریںایف بی آر کو چاہیے کہ سرکلر ایشو کرے اور افسران کو ٹرین کرے۔ قانون میں ایک پرنسپل ہے اختیار اتنا استعمال کریں جتنی اس کی ضرورت ہو۔ جب اختیار ضرورت سے زیادہ استعمال کریں گے تو اس کے بھی اثرات ہوں گے۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 27 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment