آزاد صحافت جمہوریت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے،جسٹس قاضی فائز عیسی

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا ہے کہ آزاد صحافت جمہوریت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، آزادی صحافت کے بغیر قوم بھٹک سکتی ہے اور ملک کھو سکتے ہیں۔

 پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کی منتخب عہدے داروں کی تقریب حلف برداری سپریم کورٹ میں منعقد کی گئی جس میں سپریم کورٹ کے معزز جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ مہمان خصوصی تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا بطور وکیل 1991 میں ایک مضمون میں سرکاری ٹی وی کے خبرنامے بارے ایک مضمون لکھا تھا۔ خبرنامے میں وزیر داخلہ کے اپوزیشن لیڈر پر الزامات ٹی وی پر دکھائے گئے لیکن اپوزیشن لیڈر کا جواب نہیں دکھایا گیا۔ افسوس ہے کہ پاکستان میں آج بھی ایسا ہو رہا ہے۔ یکطرفہ خبریں اور سلیکٹڈ پیغام چلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پاکستان میں ابھی بھی صحافت آزاد نہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد صحافت جمہوریت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ آزاد صحافت حکومت کی غلط کاریوں اور کرپشن کو آشکار کرتی ہے۔ اگر اس ملک میں حلف کی پاسداری کی جاتی تو آج ملک بلکل مختلف حالت میں ہوتا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے قرآن مجید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا قرآن پاک میں بھی معلومات تک رسائی اور آزادی اظہار رائے کا ذکر ہے۔ ہر شخص کو اپنی رائے قائم کرنے اور بولنے کا حق ہے۔ بین الاقوامی رپورٹس کیمطابق پاکستان میں صحافت آزاد نہیں۔ رپورٹس کے مطابق آزاد صحافت میں پاکستان نچلے درجات میں ہے۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کا کہنا تها کہ مجھ پر تنقید ہو تو میں برا نہیں مانتا۔ فریڈم آف دی پریس کے نام سے کتاب لکھی تھی۔ آرٹیکل 19 آزادی اظہار رائے کا حق دیتا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اپنی خطاب میں کہنا تھا عوامی مفاد کے تمام معاملات میں آئین معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے۔ امریکن سپریم کورٹ نے 19 سال قبل آزاد صحافت پر فیصلہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ آزاد پریس جمہوریت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ جب لوگ پریس کی آزادی کے لئے جنگ لڑتے ہیں اس کا مطلب ہوتا ہے وہ اپنے حقوق کے لئے جنگ لڑتے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ناانصافی، کرپشن کو سامنے لایا جائے۔ پاکستان فریڈم انڈیکس میں 180 ممالک میں سے سال 2017 اور 2018 میں 139 نمبر تھا جو 2019 میں 142 نمبر پر پہنچ گیا۔

تقریب سے پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کے منتخب صدر عبدالقیوم صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدالتیں ازخود نوٹس کے اختیار کو سیاسی جماعتوں کے خلاف استعمال کر رہی ہیں۔ امید ہے قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس بن کر ازخود نوٹس پر اپنے خیالات پر عمل کریں گے اور آزاد عدلیہ اور میڈیا کے پاسبان ہوں گے۔قاضی فائز عیسیٰ آزاد عدلیہ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔

تقریب کے اختتام پر جسٹس قاضی فائز عیسی کو شیلڈ بھی پیش کی گئی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment