ملک میں احتساب اور انصاف ہوتا تو شہباز شریف کے بجائے عاصم سلیم باجوہ کو گرفتار کیا جاتا، مریم نواز

ملک میں احتساب ہوتا تو شہباز شریف نہیں، معاون خصوصی گرفتار ہوتے، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے پارٹی کے صدر شہباز شریف کی گرفتاری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ملک میں احتساب اور انصاف ہوتا تو شہباز شریف نہیں بلکہ معاون خصوصی کو گرفتار کیا جاتا۔

واضح رہے کہ آج لاہور ہائی کورٹ نے آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی، جس کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) نے انہیں گرفتار کر لیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مریم نواز نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ شہباز شریف کا صرف یہ قصور ہے کہ انہوں نے نواز شریف کا ساتھ نہیں چھوڑا، اس نے جیل جانے کو ترجیح دی مگر اپنے بھائی کے ساتھ کھڑا رہا۔

مریم نواز نے کہا کہ اگر اس ملک میں احتساب اور انصاف ہوتا تو شہباز شریف نہیں، عاصم سلیم باجوہ اور اس کا خاندان گرفتار ہوتا۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ انتقامی احتساب نواز شریف اور اس کے ساتھیوں کا حوصلہ پست نہیں کر سکتا، اب وہ وقت دور نہیں جب اس حکومت اور ان کو لانے والوں کا احتساب عوام کریں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ شہباز شریف کو گرفتار کر کے بھی اپنے جھوٹے اور جعلی مینڈیٹ کو نہیں بچا سکیں گے، شہباز شریف کی سربراہی میں مسلم لیگ نواز کے وفد نے اے پی سی میں جو بھی فیصلے کیے، مسلم لیگ نواز کا ہر کارکن ان وعدوں پر ثابت قدم رہے گا، انشاءاللّہ! آج ہم سب شہباز شریف ہیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment