ریاست کے کچھ لوگ ہی شہریوں کو زبردستی غائب کرتے ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی ٹی ایکسپرٹ عدم بازیابی عملدرآمد کا کیس میں سیکرٹری داخلہ اورسیکرٹری خزانہ کو طلب کرلیا۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے آئی ٹی ایکسپرٹ ساجد محمود کی عدم بازیابی عملدرآمد کے کیس پر سماعت کی۔

عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتےہوئے ریمارکس دیے کہ کیا معلوم ہے جبری گمشدگی کیا ہوتی ہے اس سے مراد ریاست کے کچھ لوگ ہی شہریوں کو زبردستی غائب کرتے ہیں۔ ریاست تسلیم کر چکی کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے جس کا پیارا غائب ہوجائے اور ریاست کہے ہم میں سے کسی نے اٹھایا ہے توشرمندگی ہوتی ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے کیس میں تاخیر سے لاتعلقی کا اظہار کیا تو چیف جسٹس نے کہاکہ بحث کر یںنگے توہم وزیراعظم کو نوٹس کر دیتے ہیں۔ انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے، جبری گمشدگی جس کے ساتھ ہوتی ہے وہی جانتا ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مزید کہا کہ ریاست نے اپنی ناکامی مان لی ہے۔

عدالت نے سیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری خزانہ کو 19 اکتوبر طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment