انسداد منی لانڈنرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکنے کے قوانین جاری

حکومت نے ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر عمل درآمد شروع کردیا، انسداد منی لانڈنرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکنے کے قوانین جاری کردیے گئے۔

وفاقی حکومت نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی شرائط پر عمل درآمد شروع کردیا۔ ایف بی آر نے آج سے سونے اور زیوارت کے لین دین کو دستاویزی بنانے کا عمل آغاز کردیا۔ 

قانون کے مطابق جیولرز کو 20 لاکھ سے زائد کی خریداری پر ریکارڈ دینا ہوگا، شناختی کارڈ، نائیکوپ، رسیدیں، بینیفشل اونر، کاروبار کی شروعات سے ترسیلات کی تمام تر تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔ طلب کرنے پر ریکارڈ فنانشنل مانیٹرنگ یونٹ کو دینا ہو گا۔ اکاونٹ کمپنیوں پراپرٹی ایجنسیز ،جیولرز کو ریکارڈ جمع کروانا ہوگا ۔

وفاقی حکومت نے قومی بچت اسکیموں کا سپر وائزری بورڈ تشکیل دے دیا گیا۔ چھ رکنی بورڈ کے سربراہ ایڈیشنل سیکریٹری خزانہ ہوں گے۔ اسٹیٹ بینک کے گریڈ 20 افسر کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ ایف ایم یو ایس ای سی پی اور ایف اے ٹی ایف ڈائریکٹوریٹ کے نمائندے بورڈ کا حصہ ہوں گے۔ بورڈ قومی بچت مراکز میں انسداد منی لانڈرنگ قوانین پر عمل درآمد کرے گا۔ 

وزارت خزانہ نے قومی بچت مراکز میں انسداد منی لانڈرنگ قواننین جاری کردیے۔ قومی بچت مراکز تمام صارفین کا ریکارڈ جمع کرنے کے پابند ہوں گے۔ سیاسی شخصیات ججز، گریڈ 21 کے افسران سفارتکاروں مسلح افواج کے اعلی افسران کا ریکارڈ جمع کریں گے۔ قومی بچت مراکز منی لانڈنرگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خطرات کی نشاندہی کریں گے۔ صارفین کو شناختی کارڈ، نائیکوپ، پاسپورٹ یا فارم ب جمع کرانا ہوگا۔

قومی بچت مراکز مشکوک صارفین کی اطلاع فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کو دینے کے پابند ہوں گے۔ ضابطے کی خلاف ورزی پر اینٹی منی لانڈرنگ قانون کے تحت کارروائی ہو گی۔ 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment