90 سالہ خاتون حق مہر نہ ملنے پر عدالتوں میں دھکے کھانے پر مجبور

سپریم کورٹ میں پشاور کی 90 سالہ سعیدہ سلطان کے حق مہر کے کیس پر سماعت ہوئی۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت سعیدہ سلطان کے وکیل عدالت کو بتایا کہ تین کنال دس مرلے زمین نام ہونے کے باوجود قبضہ نہیں مل سکا۔ فیصلے حق میں ہونے کے باوجود اجراء کے معاملے میں جعلی رپورٹ پیش کی گئی۔

عدالت نے کہا کہ اجراء کے معاملے کو سیشن کورٹ میں بھیجنے کا حکم دے سکتے ہیں یا درخواست خارج ہو جائے گی، جس پر ضعیف العمر خاتون نے عدالت سے درخواست کی کہ سوچنے کے لیے کچھ مہلت دیں۔ جس کے بعد عدالت نے سماعت نومبر تک ملتوی کر دی۔

عدالت کے باہر 90 سالہ خاتون سعیدہ سلطان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پندرہ سال کی عمر میں شادی ہوئی۔ 90 سال کی ہو چکی ہوں حق مہر نہیں مل سکا۔ کیس 1970 سے مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہے۔ میرے حق میں فیصلے ہونے کے باوجود قبضہ نہیں مل سکا۔ 2010 میں مجھے قبضہ دلانے کے حوالے سے جعلی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔ 

90 سالہ خاتون سعیدہ سلطان نے سوال کیا کہ اب اگر سیشن کورٹ سے دوبارہ رجوع کیا تو کیا دو سو سال کی عمر میں انصاف ملے گا، سب بہنوں اور بیٹیوں والے ہیں میرے ساتھ بھی انصاف کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment