پھول کھلیں گے….

تحریر. روزینہ علی 

بہت عرصہ ہوا کچھ لکھنے کا دل نہیں کر رہا تھا کبھی دل کرتا تو بوجھل طبیعت ساتھ نہ دیتی، کبھی من ہی نہ کرتا کہ کچھ لکھوں کبھی قلم ساتھ نہ دیتا کبھی مصروفیات جکڑ لیتی، آج ذرا پھولوں کے ساتھ کچھ وقت گزرا تو ہاتھ لکھنے کے لیے بے تاب ہو گئے۔ 

آجکل موسم بدل رہا ہے اور بدلتے موسم کی رنگینیاں بھی ہر ایک پر اپنا اثر چھوڑتی ہیں۔ کبھی زرد پتوں کی سرسراہٹ کبھی حسن پھولوں کی تازگی ہر ایک اپنے الگ انداز سے انسان کو اپنے سحر میں جکڑتے ہیں۔ آج کل موسم کے ان رنگوں پر محنت ہو رہی ہے۔ اکتوبر کے آغاز کے ساتھ ہی اسلام آباد کی مختلف نرسریون میں پھولوں کے بیج لگائے جا رہے ہیں۔ جن میں کئی پھول بہار کے تو کئی سرد موسم خزاں رْت کی خاموشیوں میں تازگی کا احساس دینے والے پھول شامل ہیں، 

میں ایک نرسری میں آج داخل ہوئی تو چھوٹے چھوٹے سے گملوں میں مٹی بھر بھر کے بیج لگائے جا رہے تھے۔ ایک طرف پودوں کو پانی دیا جا رہا تھا۔ میں آگے بڑھی اور معلومات لیں بتایا گیا میری گولڈ، فرنچ میری گولڈ، اور پٹونیا کا بیج گملوں میں لگایا جا رہا ہے۔ نرسری مالک کا کہنا تھا کہ بہار جب بھی آئے گی دلکش پھولوں کے ساتھ جلوہ گر تو ہوگی مگر بہار کے اس حسن اور نکھار کے کے لیے محنت بھی خوب کرنی پڑتی ہے۔ اکتوبر کے آغاز سے ہی بہار کی رنگینیوں کے لیے کئی اقسام کے پھولوں کے بیج لگائے جاتے ہیں۔ کچھ پھول نومبر میں جلوہ گر ہونگے تو کچھ دسمبر میں، اور کچھ رنگ برنگی پنیریاں مارچ میں جلوہ گر ہونگی۔

بہار کا حسن اپنی جگہ لیکن سرد موسم کی خنکی میں جب خزاں اپنے جوبن پر ہوتی ہے خشک پتہ زمیں کا بوسہ لیتے ہیں اور پاوَں کے نیچے آئیں تو جیسے درد سے کراہ کے رہ جاتے، تب پھولوں کا حسن کہیں جلوہ گر ہو تو ماحول سحر انگیز لگتا ہے اور کئی ایسے افراد کے چہرون پر مسکان بھر دیتا ہے جو خزاں رْت کے ساتھ ہی خاموشی اداسی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں اور پھر تنہا کہیں بیٹھے زرد پتوں یا بے لباس اشجار کے ہمرا ماضی کے اوراق کھولوتے ہیں۔ تب آج اگائے جانے والے بیجوں سے حسن کے جلوتے بکھیرتے پھول ہی من کو راحت بخش رہے ہوتے ہیں۔

پھولوں سے عشق کرنے والے اگر اپنے آنگن میں ان خاموش رْتوں میں پھولوں کا بسیرا چاہتے ہیں تو ان دنوں بیج لگا کے خزاں رْت میں راحت کا سامان کر سکتے ہیں۔ آج محبت سے بیج لگائیں گے تب ہی اداس رْتوں کا پھولوں سے نکھار سکیں گے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment