سزائے موت کے قیدی کی رحم کی اپیل صدر پاکستان کو بھجوانے کی ہدایت

سپریم کورٹ میں تہرے قتل کے مجرم محمد صدیق کی سزائے موت کیخلاف نظر ثانی اپیل پر سماعت میں عدالت نے مجرم کے وکیل کو رحم کی اپیل دوبارہ صدر پاکستان کو بھیجوانے کی ہدایت کر دی۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ مجرم کے وکیل ذوالفقار بھٹہ نے دلائل دیے کہ فریقین کے مابین صلح ہوچکی ہے، قانون کے مطابق صلح ہو جانےپر پھانسی نہیں ہو سکتی۔

جسٹس قاضی محمد امین نے ریمارکس دیے کہ عمر قید کا مطلب 25 سال قید نہیں بلکہ پوری زندگی قید ہے۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر پھانسی نا بھی دیں تو مجرم تمام عمر جیل میں رہے گا۔

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ اگر تہرے قتل کے مجرم کو سزا نا دی گئی تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوگا۔ایڈینشل اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجرم کو سزا قصاص کے تحت نہیں بلکہ تعزیر کے تحت ہوئی۔سات رکنی بینچ 2019 میں اس بارے فیصلہ دے چکا۔قانون کے تحت معاملے کو صرف صدر کے پاس دوبارہ بھیجوایا جا سکتا ہے۔

یاد رہے ملزم محمد صدیق نے 1995 میں پسند کی شادی کرنے پر بیٹی داماد اور نواسی کو قتل کر دیا تھا۔عدالت نے معاملہ صدر کو بھجوا کر کیس نمٹا دیا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment