نواز شریف اور دیگر لیگی راہنماؤں کے خلاف غداری کا مقدمہ درج

مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف لاہور کے شاہدرہ تھانے میں ملک اور ریاستی اداروں کے خلاف سازش کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔

صوبائی دارالحکومت لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں شہری بدر رشید کی مدعیت میں نواز شریف اور دیگر کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 120، 120 بی (مجرمانہ سازش)، 121، 121 اے (پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش)، 123 اے ( ملک کی تشکیل کی مذمت اور اس کے وقار کو ختم کرنے کی حمایت)، 124 اے (بغاوت)، 153 اے (مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کا فروغ) اور 505 اور برقی جرائم کی روک تھام کے قانون 2016 کی شق 10 تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ 

ایف آئی آر میں پارٹی رہنماؤں مریم نواز، رانا ثناء اللہ، احسن اقبال، شاہد خاقان عباسی، پرویز رشید، مریم اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ اور دیگر افراد کے نام بھی شامل ہیں جنہوں نے گذشتہ ہفتے مسلم لیگ (ن) کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاسوں میں حصہ لیا تھا۔

خیال رہے کہ 20 ستمبر 2020 کو سابق وزیراعظم نواز شریف نے طویل عرصے بعد اپنی خاموشی کو توڑتے ہوئے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں حکومت اور اداروں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری جدوجہد وزیراعظم عمران خان کے خلاف نہیں بلکہ 2018 کے انتخابات کے ذریعے انہیں اقتدار میں لانے والوں کے خلاف ہے۔

اس کے بعد وہ کئی دفعہ اپنی تقاریر میں حکومت، فوج اور پاکستان کے دیگر اداروں پر سخت تنقید کرتے آرہے ہیں۔

 ایف آئی آر کے متن کے مطابق تاہم اب سزا یافتہ نواز شریف علاج کروانے کے بجائے لندن میں بیٹھ کر ایک سوچی سمجھی مجرمانہ سازش کے تحت پاکستان اور اس کے مقتدر اداروں کو بدنام کرنے کی غرض سے نفرت اور اشتعال انگریز تقاریر کر رہے ہیں۔ 

ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ 20 ستمبر اور یکم اکتوبر کو کی جانے والی تقاریر میں سابق وزیر اعظم نے ہمسایہ ملک بھارت کی پالیسیوں کی حمایت کی تاکہ پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی ‘گرے لسٹ’ میں برقرار رہے۔

مذکورہ ایف آئی کے مطابق نواز کی تقریروں کا بنیادی مقصد بین الاقوامی برادری کے سامنے پاکستان کو الگ تھلگ رکھنا اور اسے ایک بدمعاش ریاست قرار دینا ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ نواز عوام کو عوامی منتخب حکومت کے خلاف کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مذکورہ ایف آئی کے مطابق تقاریر کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی سے بھی توجہ ہٹانا ہے جو نواز کے "دوست” ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کو فائدہ پہنچائے۔

دوسری طرف اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیر کے روز نواز کی تقاریر پر پابندی عائد کرنے کی درخواست خارج کردی۔

درخواست میں کہا موقف اختیار کیا گیا تھا عدالت نفرت آمیز تقریر پر نواز شریف پر پابندی عائد کرے، عدالت پیمرا کو پابند کرے کہ نواز شریف کی تقریر آئندہ ٹی وی چینل پر نشر نہ ہو۔ 

مسلم لیگ (ن) کے رہنما ظفر اقبال نے ایک بیان میں کہا کہ ھم اس کیس کے اندراج کی مذمت کرتے ہیں۔سیاستدانوں کے خلاف غداری کے مقدمات درج کرنا حکومت کی نااہلی کو چھپا نہیں سکتا۔ بے روزگاری ، مہنگائی اور غربت سے نمٹنے کے بجائے حکومت اپوزیشن کو دبانے کے لئے ریاستی مشینری استعمال کررہی ہے۔

ٹویٹر پر جاری ایک بیان میں مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ اس مقدمے کا اندراج اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ "سیلیکٹڈ” حکومت "گھبرا رہی ہے۔ عوام کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی آوازوں کو ایسے جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات سے دبایا نہیں جاسکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی مخالفین، میڈیا، انسانی حقوق اور جمہوریت کی جنگ لڑنے والوں کو اب "غدار” کا نام دیا جارہا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے سکریٹری جنرل احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو غدار قرار دے کر حکومت کی "نااہلی” کو چھپایا نہیں جاسکتا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ "حکومت ھمیں غدار بنا کر لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر کے اپنی نااہلی چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے پاکستان کی تعمیر کی، بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا، چین پاکستان اقتصادی راہداری کو شروع کیا اور معیشت کو اٹھایا وہ آج غدار ہیں اور وہ لوگ جنہوں نے ملکی معاشی ترقی کو تباہ کیا وہ محب وطن ہیں۔

 

Leave a Comment