سپریم کورٹ: دھماکہ خیز مواد برآمدگی کیس میں دو ملزمان بری

سپریم کورٹ نے دھماکہ خیز مواد برآمدگی کیس میں دو ملزمان کو بری کر دیا۔

جسٹس منظور احمد ملک کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے دھماکہ خیز مواد برآمدگی کیس میں ملزمان امان اللہ اور خالد محمود کی 14 سال سزا کم کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ ملزمان کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ ملزمان کا تعلق کسی دہشتگرد تنظیم سے ثابت نہیں ہوسکا۔ ملزم خالد مینٹل ہسپتال لاہور میں ملازم ہے۔

جسٹس منظور احمد ملک نے ملزمان کے وکیل سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ لوگ ایسی حرکتیں کرتے ہی کیوں ہیں؟ یہ کیا بات ہوئی کہ آپ جس ملک میں رہتے ہیں اسکے ہی خلاف ہوجائیں۔ ملزمان اتنے ہی شریف ہیں تو اسلحہ اور بارود کا کیا کرنا تھا؟ایسے افراد اور تنظیموں سے ملنے اور شامل ہونے کی ضرورت ہی کیا ہے؟

ملزم خالد محمود کے برادر نسبتی نے کہا پولیس نے بلاوجہ میرے بہنوئی کو گرفتار کیا۔ ملزم پانچ بچوں کا باپ اور 5 سال سے جیل میں ہے۔ 

جسٹس منظور احمد ملک نے کہا کہ پولیس یا ایجنسیوں کو کیا دشمنی تھی کہ ملزم کو گرفتار کیا۔جتنا جرم ملزمان نے کیا اسکی پانچ سال سزا کافی ہے۔ اپنے بہنوئی سے کہنا انسان کا بچہ بن کر رہے۔

یاد رہے ملزمان خالد محمود اور امان اللہ سے دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا تھا جس کے بعد ٹرائل کورٹ نے ملزمان کو 14 سال سزا سنائی تھی۔ ہائیکورٹ نے سزا کم کر کے دس سال کر دی تھی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment