اسلام آباد ہائیکورٹ نے کلبھوشن کیس میں رجوع کرنے کا ایک اور موقع دے دیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کلبھوشن جادیوکیس میں بھارت کوعدالت سے رجوع کرنے کا موقع فراہم کردیا۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں لارجر بینچ نے کلبھوشن جادیوکو کونسلر رسائی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

عدالتی معاون حامد خان پیش ہوئے اٹارنی جنرل خالد جاوید نے عدالت کو بتایا کہ بھارت نے جواب میں آرڈیننس، قونصلر رسائی اور بھارتی وکیل کی اجازت نہ دینے سمیت چاراعتراض کیے ہیں تمام تحفظات بے بنیاد ہیں۔جواب سے ثابت ہے کہ بھارت عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وفاق نے کلبھوشن کے انکارکے بعد قانونی نمائندہ مقرر کرنے کیلئے اس عدالت سے رجوع کیا۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ بھارت کو کافی مواقع فراہم کر دیے جس کا فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ نمائندہ مقررکرنے پرعالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی کیا حیثیت ہوگی؟ جوبھی کریں، وہ فیصلے کی مطابقت میں ہونا چاہیے۔ کلبھوشن جادیوکے عدالت آنے پرحق زندگی یقینی بنانا ہماری ذمہ داری ہے۔ بھارت اورکلبھوشن وکیل نہیں کرتے تو کیس کیسے آگے بڑھائیں؟

عدالت نے اٹارنی جنرل اورعدالتی معاون دلائل اوربین الاقوامی عدالتی نظیریں پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 9 نومبرتک ملتوی کردی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment