افریقی ملک برکینا فاسو میں مسلح گروہ کا حملہ، 25 افراد ہلاک

مغربی افریقی ملک برکینا فاسو میں حملہ آوروں نے 25 بے گھر شہریوں کو ہلاک کردیا۔

اقوام متحدہ نے بتایا کہ وسطی شمالی برکینا فاسو میں مسلح حملہ آوروں نے درجنوں بے گھر افراد کو اس وقت گھات لگا کر نشانہ بنایا جب وہ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جانے والے قافلے میں شامل تھے اور 25 افراد کو ہلاک کر دیا۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے لئے ہائی کمشنر (یو این ایچ سی آر) نے بدھ کے روز بتایا کہ یہ واقعہ اتوار کے روز صوبہ سانمیتینگا کے قصبہ پیسلا سے 9 کلومیٹر دور پیش آیا۔

یو این ایچ سی آر کو زندہ بچ جانے والوں نے بتایا کہ خواتین اور بچوں کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔

حملے میں زندہ بچ جانے والی تین خواتین نے ایسوسی ایٹ پریس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ حملہ آوروں نے اپنی شناخت جہادی کے طور پر کروائی تھی۔

ایک عہدیدار نے بتایا ، "یہ حملہ اتوار کی شام کو کیا گیا اور پیر کی صبح  حملے کی جگہ سے 25 لاشیں ملی ہیں۔

برکینی حکومت نے ابھی تک ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی لیکن متعدد علاقائی عہدیداروں نے اے پی کو بتایا کہ وہ اس صورتحال سے بخوبی واقف ہیں اور وہ اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔

برکینا فاسو میں یو این سی ایچ آر کے نمائندے لولی نے اس سفاکانہ حملے کی مذمت کی۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ معصوم شہری سلامتی کے خواہاں ہیں لیکن اس کی ساتھ خطرناک حد تک اس خواب کو پورا کرنے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ بھی دے رہے ہیں۔

تقریبا 20 لاکھ افراد پر مشتمل غریب ملک برکینا فاسو  مغربی افریقہ کی متعدد ریاستوں میں سے ایک ہے جسے اس کے ساحلی مغربی حصے میں بڑھتے ہوئے تشدد نے اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔

یاد رہے پچھلے سال برکینا فاسو میں سرکاری فوج ، ڈاکوؤں اور داعش اور القاعدہ سے وابستہ مسلح گروہوں کے مابین جھڑپوں کے نتیجے میں 2 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس تنازعہ کی وجہ سے دس لاکھ سے زیادہ برکینی لوگ بے گھر بھی ہو چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق برکینا فاسو کے مختلف نسلی گروپ کئی سالوں سے ایک دوسرے کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں۔

 

 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment