تمام سیاستدانوں کے ساتھ جیل جانے کو تیار ہوں، بلاول

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ دوسرے تمام سیاستدانوں کے ساتھ جیل جانے کے لئے تیار ہیں لیکن کسی بھی طرح سے اس نظام سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔

جمعہ کے روز انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ جو لوگ ڈکٹیٹروں سے نہیں ڈرتے وہ کسی کرکٹر سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی پہلے دن سے حکومت اور اس کے سہولت کاروں پر تنقید کر رہی ہے۔میڈیا کو حکومت پر تنقید کرنے سے روک دیا گیا ہے اور ہمارے انٹرویو سنسر کیے گئے ہیں۔انشاء اللہ تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر اس نااہل حکومت کو ختم کریں گی۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ حکومت خارجہ اور معاشی پالیسی سمیت تمام محاذوں پر ناکام ہو رہی ہے کیونکہ پاکستان پر سیلیکٹد حکومت مسلط کی گئی ہے۔ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے عوام بے بس ہو گئی ہے۔ ایسی آمرانہ حکومت قائم نہیں رہ سکتی، ان کی گنتی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

یاد رہے کہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہ لیتے ہوئے صدر مملکت عارف علوی نے کراچی کے ساحل کے ساتھ موجود ان دو جزائر کا کنٹرول وفاق کو دینے میں مدد فراہم کرنے کے لیے پاکستان آئی لینڈز ڈیولپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2020 کو نافذ کیا تھا۔ جس کا مقصد ان جزائر کی بحالی کے مستقل عمل، ماسٹر پلاننگ، اربن پلاننگ اور ان دو جزائر کو تجارتی، لاجسٹک مراکز، ڈیوٹی فری ایریاز اور بین الاقوامی سیاحتی مقام کے طور پر ترقی دینا ہے۔

پی آئی ڈی اے آرڈیننس کے نٖفاذ نے سندھ کی حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سخت تنقید کو جنم دیا تھا اور پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس اقدام کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے بھارت کے مقبوضہ کمشیر کے غیر قانونی الحاق کے مترداف قرار دیا تھا۔ بلاول بھٹو نے اس اقدام کو ’پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے سندھ کے جزائر کا غیر قانونی الحاق‘ قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت ’ان جزائر کا الحاق کرنا چاہتی ہے جو صوبے کی ملکیت ہیں تا کہ اپنے دوست سرمایہ کاروں کو ہاؤسنگ اور سیاحت سمیت اس طرح کے دوسرے منصوبے تعمیر کرنے کی اجازت دے کر مالی فوائد حاصل کرنے کے لیے ان کا استحصال کرے،جو کہ 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کے حوالے کردیے گئے تھے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment