جنگ بندی کے لیے آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین مذاکرات شروع

مسلح جھڑپوں کے خاتمے کے لئے آرمینیا اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ نے ماسکو میں ملاقات ملاقات کی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روس باہمی گفتگو کے لئے آرمینیا اور آذربائیجان کے عہدیداروں کی میزبانی کر رہا ہے۔ 

دوسری جانب دونوں ممالک ایک دوسرے پر پہلے حملہ کرنے اور اندرونی معاملات میں مداخلت کے الزامات لگا رہے ہیں۔ تازہ جھڑپوں میں 26 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

آذربائیجان کے صدر نے اعلان کیا ہے کہ ارمینیائی قبضے سے کئی مزید بستیوں کو آزاد کرا لیا گیا ہے۔

الہام علیئیف نے ایک عوامی خطاب میں کہا کہ سیرائیل شہر کے شمالی حدود کے علاوہ چائلی ، یوکاری گزلاک ، گورازیلی ، گشلاگ ، گراجالی ، افندیلر ، سلیمانلی اور سور سمیت متعدد دیہات بھی آذربائیجان کے قبضے میں آ گئے ہیں ۔ انہوں نے اسے تاریخی فتح قرار دیا ہے۔

صدر علیئیف نے مزید کہا کہ ہم اپنا علاقہ لیں گے اور ہم علاقے کو پرامن طریقے سے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

ٹیلیویژن خطاب میں آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف نے کہا ہے کہ ماسکو میں آرمینیا سے بات چیت شروع کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم آرمینیا کو تنازعہ کے پرامن طریقے سے حل کرنے کا موقع دے رہے ہیں، یہ ان کے لیے آخری موقع ہو گا۔ ھم اپنا علاقہ ہر قیمت پر واپس لیں گے۔

آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات میں واپس جانے کے لئے تیار ہیں ، لیکن وہ آرمینیا کو کسی قسم کی رعایت دینے پر راضی نہیں ہیں اور کوئی دوسرا ملک باکو کی مرضی پر اثر انداز نہیں ہوسکتا ہے۔

علییف نے قوم سے ٹیلی وژن خطاب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر آرمینیا اصرار کرتا رہے کہ ناگورنو-کراباخ آرمینیائی علاقے کا حصہ ہے تو اس سے کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے کہا کہ آذربائیجان کے طاقت کے استعمال نے حقائق کو زمین پر بدل دیا ہے اور اس نے ثابت کر دیا ہے کہ اس تنازع کا فوجی حل موجود ہے۔

آرمینیا اور آذربائیجان نے تقریبا دو ہفتوں کی جھڑپوں کے بعد پہلی اعلی سطحی بات چیت کا آغاز کیا ہے۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے ماسکو میں گول میز پر روس ، آرمینیا اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ کی تصویر لگاتے ہوئے فیس بک پر کہا کہ مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔

 

 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment