پاکستان میں چوتھی فوجی بغاوت کو 21 سال مکمل

پاکستان میں چوتھی فوجی بغاوت کو اٹھارہ سال مکمل ہوگئے ہیں۔ 12 اکتوبر 1999ء کو اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے میاں نواز شریف کو معزول کرکے اقتدار کی باگ دوڑ سنبھال لی تھی اور خود کو چیف ایگزیکیٹو نامزد کردیا تھا۔

بارہ اکتوبر 1999ء کو شام پانچ بجے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ضیاء الدین بٹ کو نیا آرمی چیف مقرر کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

اس وقت آرمی چیف پرویز مشرف سری لنکا سے ایک پرواز میں پاکستان آرہے تھے۔اس سے پہلے کہ وزیراعظم کے احکامات پر عمل ہوتا چند ہی گھنٹوں میں ملک کا منظرنامہ یکسر تبدیل ہوچکا تھا۔ فوج وزیر اعظم ہاؤس میں داخل ہوگئی تھی۔ وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے افراد کو تحویل میں لے لیا گیا تھا۔

آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ہنگامی حالات کا اعلان کردیا تھا اور آئین معطل کرکے قومی و صوبائی اسمبلیاں ختم کردیں تھیں۔معزول وزیراعظم نواز شریف کے خلاف طیارہ ہائی جیکنگ کا کیس بنا تھا۔ جس میں انہیں پہلے سزائے موت اور پھر اس سزا کو تبدیل کرتے ہوئے عمر قید میں تبدیل کردیا گیا تھا۔

پرویز مشرف نے تین سال کے اندر عام انتخابات کرانے کا وعدہ کیا تھا۔ 20 مئی 2000ء کو سپریم کورٹ نے جنرل پرویز مشرف کو اکتوبر 2002ء تک عام انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا۔ 30 اپریل کو پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے صدارتی ریفرنڈم کرایا تھا اور آئندہ پانچ سال کیلئے ملک کے صدر بن گئے تھے۔سپریم کورٹ کے حکم کے تحت اکتوبر 2002ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ق) نے حکومت بنائی تھی۔ دسمبر 2003ء میں جنرل پرویز مشرف نے متحدہ مجلس عمل سے معاہدہ کیا تھا کہ وہ 2004ء میں فوجی عہدہ چھوڑ دیں گے۔ انہوں نے وعدہ پورانہ کیا تھا اور 17ویں ترمیم کے ذریعے انہیں باوردی صدر رہنے کا قانونی جواز مل گیا تھا۔

تین نومبر 2007ء کو ایک بار پھر ملک میں ایمرجنسی لگادی گئی تھی۔ جنرل پرویز مشرف 28 نومبر 2007ء کو آرمی چیف کے عہدے سے سبکدوش ہوگئے تھے اور 18 اگست 2008ء کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے صدارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔

 

 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment