سندھ میں غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ، نیپرا سے چار ہفتوں میں رپورٹ طلب: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے سندھ میں غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ کیخلاف ازخود پرسماعت میں وفاقی حکومت سے دوہفتوں میں پریزنٹیشن اور نیپرا سے چار ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی۔ 

چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سندھ میں غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ کیخلاف ازخود پرسماعت کی۔ چیف جسٹس نے پیش کی گئی رپورٹس کوغیرتسلی بخش قراردیتے ہوئے کہاکہ ان رپورٹس میں کچھ بھی نہیں کراچی میں بجلی کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔ وفاقی حکومت نہ صوبائی حکومت کچھ کررہی۔

فیڈریشن اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہی ، چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ جس کی مرضی حکومتی اداروں کا استحصال کرے کوئی روکنے والا نہیں لوگوں کوہائی جیک کیا ہوا حکومت میں صلاحیت ہی نہیں۔ حکومتی کمزوری کا سب ادارے فائدہ اٹھا رہےہیں۔ دائیں بائیں ہرطرف سے حکومت کا استحصال کیا جارہا ہے۔

چیف جسٹس نے کہاکہ نیپرا اور پاور ڈویژن کے تمام ملازمین کو فارغ کر دیتے ہیں، ایسے ملازمین کے ہونے کا کوئی فائدہ ہی نہیں کے الیکٹرک کا شہریوں کو رتی بھر کا بھی فائدہ نہیں دے رہی۔ این ٹی ڈی سی اور پی ٹی ڈی سی جیسے ادارے اربوں روپے لیکر زیرہ سروس دے رہے ہیں۔

کے الیکٹرک سے متعلق چیف جسٹس نے کہاکہ کے الیکٹرک والے لوگوں کو ہائی جیک کرکے ماسٹربن گئے۔ آج پھربجلی کی قیمت بڑھا دی گئیں چیف جسٹس نے ایم دی کے الیکٹرک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ تو پرانے ایم ڈی ہیں آپکو تو نکال دیا تھا۔ آپ کیسے آ گئے۔

ایم ڈی کے الیکٹرک نے بتایا کہ انہیں ابھی نہیں نکالا چیف جسٹس نے مزید کہاکہ کے الیکٹرک کوکنٹرول کون کرتا ہے کتنے شیئر ہولڈرز ہیں اخباروں میں خبریں لگی ہیں۔ شرما ورما نام کے لوگ کے شیئر ہولڈرز ہیں۔

وکیل کے الیکٹرک نے بمبئی کے شیئر ہولڈر والی خبریں کی تردید کی۔ عدالت نے سماعت 4 ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment