افغانستان: صوبہ ہلمند میں افغان طالبان اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں

 

افغانستان کے عہدیداروں نے بتایا کہ کہ افغان سیکیورٹی فورسز اور افغان طالبان کے درمیان جنوبی صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ پر قبضے کے لیے  گھمسان کی جنگ ہو رہی ہے۔
امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے بھی  افغان سیکیورٹی فورسز کے دفاع میں متعدد افغان طالبان اہداف کو فضائی کارروائیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکی فوج نے  افغان طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے حملے روک دیں۔
لشکرگاہ کے شہریوں نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ افغان طالبان نے شہر  کے اندر اور گرد و نواح میں علاقوں پر قبضہ کیا ہے۔ اس وقت شہر کے بیشتر حصے پر افغان طالبان کے جنگجوؤں کا قبضہ ہے یا وہ اس کے لیے بر سر پیکار  ہیں۔
یہ جنگ ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان حکومت اور افغان طالبان وفود کے درمیان امریکی ثالثی میں امن مذاکرات ہو رہے ہیں جہاں افغان طالبان نے اپنا سیاسی دفتر قائم کیا ہے۔
صوبائی حکومت کے  ایک عہدیدار عمر زواک کا کہنا ہے کہ افغان فضائیہ اور کمانڈو فورسز کی جوابی کاروائیوں سے اب افغان طالبان کی پیش قدمی رک گئی ہے اور درجنوں کی تعداد میں باغی جنگجو ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔
تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ قبضہ کئے علاقے وا گزار کرا لئے گئے ہیں یا نہیں۔  عہدیدار نے یہ تصدیق ضرور کی کہ اتوار کی رات لڑائی میں چار افغان فوجی ہلاک ہو گئے۔
افغان طالبان ذرائع کاکہنا ہے کہ حملوں کی وجہ سے سرکاری افواج  کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ تاہم  دونوں جانب سے کئے گئے دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ طالبان نے صرف اُن علاقوں پر قبضہ کیا ہے جنہیں چند ماہ پہلے افغان فورسز نے باغیوں سے چھڑا لیا تھا۔
صوبہ ہلمند کے محکمہ صحت کے ایک  اہلکار نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر وی او اے کو بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران، لشکر گاہ کے ہسپتال میں بہت سے فوجیوں اور عام شہریوں کو زخمی حالت میں  لایا گیا ہے۔
شہریوں اور سرکاری اہلکاروں نے بتایا ہے کہ لڑائی کی وجہ سے بہت سے شہری نقل مکانی پر مجبور ہو  گئے ہیں۔ شہر  اور گرد و نواح کے علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔
افغانستان میں بین الاقوامی فورسز کے کمانڈر امریکی فوج کے جنرل سکاٹ ملرکا کہنا ہے کہ افغان طالبان کو ہلمند صوبے میں اپنی کارروایئوں کو ہر صورت روکنا چاہئے اور ملک بھر میں تشدد کم کرنا چاہئے ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال افغان طالبان کے ساتھ کئے گئے سمجھوتے سے مطابقت نہیں رکھتی اور  دوحہ میں جاری امن مذاکرات کے لئے نقصان دہ ہے۔
گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں کہا تھا کہ افغانستان سے امریکی افواج کرسمس تک واپس آ سکتی ہیں۔
امریکی افواج کے چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف مارک مائیلی نے تشریاتی ادارے این پی آر سے بات کرتے ہوئے افواج میں کمی کے منصوبوں اور اس کے افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال پر ممکنہ اثرات یا دوحہ میں جاری امن بات چیت پر قیاس آرائین کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

 

متعلقہ خبریں

Leave a Comment