افغانستان: صوبہ ہلمند جاری جنگ کی وجہ سے ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور

افغان طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے مابین لڑائی کے وجہ سے ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔

ایک افغان سرکاری اہلکار کا کہنا ہے کہ صوبہ ہلمند میں طالبان اور سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں کی وجہ سے تقریباً 30،000 مقامی افراد محفوظ مقامات پر ہجرت کر گئے ہیں۔

افغان عہدیداروں نے بتایا کہا کہ جنوبی افغانستان میں ہزاروں افراد طالبان اور سیکیورٹی فورسز کے مابین زبردست لڑائی کے بعد اپنے گھروں سے نامعلوم مقامات کی طرف ہجرت کر گئے ہیں ہیں۔

اتوار کی رات طالبان جنگجوؤں نے صوبہ ہلمند کے لشکر گاہ شہر پر کئی حملوں کا آغاز ہوا جس کے بعد مقامی لوگوں نے دفاع کے لیے امریکہ سے فضائی حملوں کا مطالبہ کیا۔

ہلمند میں مہاجرین کے محکمہ کے ڈائریکٹر سید محمد رامین نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ اب تک 5،100 سے زیادہ خاندان یا 30،000 افراد لڑائی کی وجہ سے دوسرے مقامات کی طرف ہجرت کر گئے ہیں۔

 انہوں نے مزید کہا کہ کچھ خاندان ابھی تک لشکر گاہ میں سڑکوں پر کھلے عام رہ رہے ہیں اور ہمارے پاس ان کو دینے کے لئے خیمے نہیں ہیں۔

اپنے کنبے کے ساتھ فرار ہونے والا کسان عطا اللہ افغان نے بتایا کہ لڑائی اتنی شدید تھی کہ میرے پاس اضافی کپڑے لینے کا وقت نہیں تھا۔ میں صرف اپنے کنبے کو لے کر بڑی مشکل سے نکلا ہوں۔

افغان عہدیداروں نے بتایا کہ گزشتہ بدھ سے کم از کم چار اضلاع میں لڑائی جاری ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں طالبان کے متعدد حملوں کو پسپا کیا ہے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور افغان طالبان کے درمیان جھڑپوں کے بعد ہزاروں افراد اس علاقے سے نکل گئے ہیں۔انہوں نے طالبان جنگجوؤں اور سیکیورٹی فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عام شہریوں کی حفاظت کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کریں، جن میں علاقے چھوڑنے کے خواہشمند افراد کے لئے محفوظ راستے بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب صوبائی گورنر کے ترجمان عمر ژوواک کے مطابق ہلمند کے ضلع ناوا میں بدھ کے روز افغانستان فضائیہ کے دو ہیلی کاپٹروں کے آپس میں ٹکرانے سے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہوگئے۔

افغانستان کے وزارت دفاع کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلع ناوا سے اڑنے والے سوویت دور کے دو ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر فنی خرابی کی وجہ سے گر کر تباہ ہوگئے۔

مذکورہ ہیلی کاپٹروں کے حادثے میں ہلاک ہونے والے 9 افراد میں ہیلی کاپٹروں کا عملہ اور فوجی تھے جو کہ طیارے میں سوار تھے۔

صوبائی گورنر کے ترجمان ژوب نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر زخمی فوجیوں کو لے کر جارہے تھے جب وہ آپس میں ٹکرا گئے۔

افغانستان کا صوبہ ہلمند جو طالبان کا مضبوط گڑھ مانا جاتا ہے۔ ہلمند میں بین الاقوامی افواج کو افغانستان کی 19 سالہ جنگ کی سب سے خونریز جنگ کا سامنا کرنا پڑھتا آ رہا ہے۔

فروری میں طالبان نے امریکہ کے ساتھ معاہدے کیا تھا جس میں طالبان نے اس نکتے پر اتفاق کیا تھا کہ وہ اپنے حملوں میں شہری علاقوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے جس کا مقصد ملک میں جاری تشدد کو کم کرنا ہے۔

امریکہ کے ساتھ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان نے مزاکرات کی جانب قدم اس شرط پر بڑھایا تھا کہ امریکہ افغانستان سے جلد اپنی افواج کا انخلاء کرے گا

گذشتہ ہفتے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ آنے والے کرسمس تک افغانستان سے بقیہ امریکی فوجیوں کو وطن واپس بل لیں گے۔

دوحہ میں طالبان اور افغان حکومت کے مابین گذشتہ ماہ مذاکرات شروع ہونے کے بعد ہلمند پر طالبان کا حملہ ان کا پہلا اور بڑا جارحانہ حملہ کہا جا رہا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ دونوں فریق مذاکرات کے لئے بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment